Header Ads Widget

Responsive Advertisement

موصول شدہ چندے کی رقم کہاں کہاں استعمال کر سکتے ہیں



موصول شدہ چندے کی رقم کہاں کہاں استعمال کر سکتے ہیں

ہمارے یہاں رمضان المبارک میں حافظِ قرآن کو نذرانہ دینے کے لیے پورے محلے میں *(ختم القرآن)* کے نام سے چندہ وصول کیا جاتا ہے۔ پھر 27 ویں شب کو موصول شدہ چندے کی رقم میں سے امام صاحب کی تنخواہ بھی نکالی جاتی ہے اور اسی میں سے امام صاحب کے لیے نذرانہ بھی نکالا جاتا ہے نیز اسی میں سے مؤذن صاحب کی تنخواہ بھی نکالی جاتی ہے اور اسی میں سے موذن صاحب کے لیے نذرانہ بھی نکالا جاتا ہے۔ 

اسی میں سے مسجد کی بجلی کے بل کا پیسہ بھی نکالا جاتا ہے ۔ الغرض متعدد قسم کے اخراجات اسی موصول شدہ چندے میں سے کیے جاتے ہیں۔۔ بچا ہوا رقم حافظ صاحب کی خدمت میں بطور نذرانہ پیش کیا جاتا ہے۔

 دریافت طلب امر یہ ہے کہ حافظِ قرآن کے نام سے کیے گئے چندے کی رقم میں سے امام و موذن صاحبان کی تنخواہ اور نذرانہ نکالنا؟  نیز مسجد کی بجلی بل کا پیسہ نکالنا؟  یا مسجد کی دیگر ضروریات پر خرچ کرنا؟  از روئے شرع کیسا ہے ؟  

مستند جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں !!!


*سائل:۔ محمد بشیر القادری رضوی گلاب پوری کھنڈوہ ایم پی*


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں جس نیک کام کے لیے لوگوں نے چندہ دیا ہے، دیانت کے ساتھ رقم اسی میں صرف کرے، اگر صرف نہ ہو تو لازم ہے کہ جس جس سے جتنا لیا ہے ہر ایک کو اتنا اتنا واپس کر دے، یا ان کی اجازت ہو تو کسی اور جائز کام میں صرف کرے۔

ایسا ہی فتاوی مصطفویہ (ص444) میں ہے۔

لہذا رمضان المبارک میں ختم القرآن و تراویح یا قرآن سننے سنانے والے حفاظ کرام کے نذرانے کے نام پر جو رقم وصول کر کے اکٹھا کی جاتی ہیں ان میں سے کچھ رقم مسجد کی بجلی و دیگر امور خیر میں صرف کرنا شرعاً درست نہیں ہے،  ہاں اگر چندہ دہندگان سے اس کی اجازت لے لی گئی ہو یا اگر صراحتاً اجازت نہ ہو لیکن عوام و خواص جانتے ہوں کہ بقیہ رقم مسجد کی بجلی یا مؤذن وغیرہ کو دی جائے گی اور انہیں اعتراض نہ ہو تو جائز ہے۔

ایسا ہی فتاوی مرکز تربیت افتا (ج1، ص 283) میں ہے۔


البتہ بہتر اور مناسب یہی ہے کہ جو رقم امام کے نذرانہ کے لیے وصول ہو رہی ہے، پہلے ہی اس بات کا اعلان کردیا جائے کہ جو زیادہ رقم ہوگی اسے فلاں فلاں کام میں لگائی جائے گی،  پھر بقیہ رقم دیگر امور میں بھی صرف کر سکتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب

کتبہ محمد کلام الدین نعمانی مصباحی 

بنوٹا، مہوتری، نیپال

13/رمضان المبارک 1446ھ - 13/مارچ 2025ء بروز جمعرات

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے