🇳🇵🇳🇵🇳🇵🇳🇵🇳🇵🇳🇵🇳🇵🇳🇵🇳🇵🇳🇵🇳🇵🇳🇵
*علمائے نیپال اور مدارس اسلامیہ نیپال*
*======= قسط سوم =======*
*از قلم: شھاب الدین حنفی نیپال*
قارئین کرام جیسا کہ ہم نے قسط دوم میں ذکر کیا کہ ہمارے دیار میں جن دو بزرگوں نے سب سے پہلے ادارہ قائم کیا اور اسی ادارے سے فارغ التحصیل یا پڑھ کر نکلنے والے طالبان علوم نبوت ہندوستان کے مختلف مدارس میں حصول علم کیلے داخل ہوتے رہے، اس زمانے میں تین مدارس کے نام بہت عروج پر تھا اور آج بھی ہے ایک تو ازہر ہند الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور، مدرسہ منظر اسلام بریلی شریف، دارالعلوم مظہر اسلام بریلی شریف۔ اکثر نیپال کے طلبہ ان مدارس میں داخلہ لیتے تھے یہی وجہ ہےکہ ہمارے قدیم علماء میں اکثر مصباحی یا منظری یا مظہری ملیں گے، جب یہ حضرات پڑھ کر اپنے وطن مالوف آتے تو جہاں دیکھتے مدارس کی ضرورت ہے تو مدارس یا مکاتب ضرور قائم کرتے اس طرح دیکھتے دیکھتے ہمارے دیار اور پورے نیپال میں مدارس اسلامیہ کا جال بچھتا چلاگیا جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہمارا نیپال بہت بڑا ملک ہے دنیا کے کئی ممالک سے بڑا اللہ نے ہمارے وطن عزیز کو بنایا ہے۔
ہمارے ملک کے خطے خطے میں آج مدارس مساجد خانقاہوں کا جو یہ جال آپ دیکھ رہے ہیں اگر یہ کہا جائے ان تمام مدارس میں اول وہی دو ادارے ہیں جن کا ذکر قسط دوم میں ہوا تو بیجا نہ ہوگا۔ اگر میں اپنے ضلع مہوتری کے ایک عظیم ادارہ مدرسہ فیض القرآن مٹیہانی کا ذکر نہ کروں اور اس کے مربی ومحسن کا ذکر نہ کروں تو یہ میری بات ادھوری رہ جائےگی۔
الحمدللہ علی احسانه ضلع مہوتری میں اس وقت درجنوں مدارس ہیں سب ہمارے ہیں سارے مدارس اہلسنت کا سرمایہ ہیں، ہر ایک ادارے کو پروان چڑھانے میں ان کے بانیان کا کلیدی کردار رہاہے، ان کی قربانی رہی ہے، انہیں ادارے میں مدرسہ فیض القرآن مٹیہانی بھی ہے جس کو میرے مربی ومحسن استاذ العلماء والفقہاء ناشر مسلک اعلی حضرت صوفئ ملت سیدی و سندی آقائی ومولائی میرے والد روحانی حضور علامہ مولانا عبدالقیوم علیہ الرحمہ ورضوان نے مسلسل اٹھارہ سالوں تک خون پسینہ ایک کرکے سینچا ہے۔ یہ ادارہ سرحدی مقام پر ہے حضور صوفی ملت نے انتھک کوشش کرکے بےشمار قربانی دیکر اس ادارہ کو بام عروج تک پہونچایا۔
اس کے بعد آپ مستعفی ہوکر پھر دوبارہ میرے گاؤں سمردہی میں تشریف لائے یہاں بھی آپ نے مکتب سے مدرسہ میں بدل دیا، آج مدرسہ رضائے مصطفی سمردہی ٹولہ عمارت اور تعلیم وتعلم کے لحاظ سے ضلع مہوتری کے صف اول میں شمار ہوتا ہے حضور صوفئ ملت کی قربانیوں کو نہ اہل مٹیہانی نہ اہل سمردہی فراموش کرسکتے ہیں۔
جب لاک ڈون شروع ہوا تو کرونا جیسے مہلک بیماری کی وجہ سے پوری دنیا کا نظام الٹ پلٹ ہوگیا تھا، لوگ گھروں میں محصور ہوچکے تھے، مدارس بند ہوچکے تھے، مساجد بھی بند ہوچکی تھی، حضور صوفئ ملت چاہتے تو آپ اپنے وطن مالوف جاکر وقت گزارتے مگر آپ گھر نہ جاکر مدرسہ میں ہی قیام فرماتھے، اور اسی سال ماہ جون 2020 میں آپ کا وصال پر ملال ہوا۔
غور فرمائیں حضور صوفئ ملت اگر گھر پر رہتے تو کوئی کچھ نہیں بول سکتے تھے مگر آپ نے اپنا آخری سانس بھی مدرسہ رضائے مصطفی سمردہی کی تعمیر وترقی میں مکمل کیا اور ہمیشہ ہمیشہ کیلے اہل سمردہی اور اپنے تمام شاگردان ومتعلقین ومحبین کو داغ مفارقت دیکر آج بھی سمردہی کے قبرستان میں آرام فرماہیں مولی تعالی حضرت کے تربت انور پر رحمت ونور کی موسلادھار بارش برسائے آمین۔
قارئین کرام یہ دو ادارے جس کا ذکر اوپر گزرا الحمدللہ اس دونوں ادارے سے کثیر طلباء نے اپنا علمی پیاس بجھایا اور بجھا رہے ہیں میرے علم میں یہ بات بھی آئی ہیکہ حضور صوفئ ملت کبھی کبھار بھوکے بھی سوئے ہیں کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا کہ کھانا موجود ہوتا کوئی مسافر پہونچا آپ نے انکو کھلادیا اور خود بھوکے رہے اس طرح آپ نے بھوکے رہکر ہزاروں شاگردان پیدا کیے، سمردہی ٹولہ اور پیگونا ان دونوں بستیوں میں جتنے علماء ہیں سب کے سب آپ کے شاگرد ہیں۔
آپ کی آمد سے قبل سمردہی ٹولہ یا پیگونا گاؤں میں کوئی ایک بھی عالم نہیں تھا ان علماء کو پیدا کرنے میں آپ کا اخلاص وکردار ہمیشہ چمکتا دمکتا رہے گا اور علمائے سمردہی وپیگونا کے صدر پر منقوش رہےگا۔
اب آئیں مہوتری سے نکل کر ضلع سنسری چلتے ہیں یہ وہ علاقہ ہے جہاں وہابی دیوبندی مودودی جماعت اسلامی کی اکثریت ہے اس علاقے میں سنیت مسلک اعلی حضرت کی ترویج واشاعت کیلے کوئی خاص کام نہیں ہوتا تھا، آج سے تیس چالیس سال قبل اسی ضلع کے ایک متبحر عالم دین داعئ اسلام محافظ مسلک اعلی حضرت مرید حضور مفتئ اعظم ہند علامہ سہراب عالم رضوی مدظلہ العالی ہیں آپ جب دارالعلوم منظر اسلام سے فارغ التحصیل ہوکر اپنے وطن مالوف آئے تو آپ نے شروع میں کاشت کاری کا کام کیا، تعلیم وتعلم سے دور رہے، ایک دن آپ حادثے کے شکار ہوئے اور آپ کا ہاتھ تھریسر میں کٹ گیا، اس طرح آپ عظیم نعمت الہیہ سے محروم ہوگیے، پھر اہل محلہ نے آپ کو اپنے یہاں مکتب میں تدریس کیلے منتخب کیا آپ نے اپنی محنت شاقہ اور سعئ جمیلہ سے اس مکتب کو مدرسہ بنادیا اور ہزاروں علماء پیدا کیے علاقے بھر میں باوجود کے بددینوں کی کثرت ہے مگر بنا کسی خوف وخطر کے آپ مسلک اعلی حضرت کا علم لہرا رہے ہیں اس طرح وہ علاقہ مزید بدمذہبیت سے محفوظ ہوتا چلا گیا۔
ضلع کپلوستوں کے صدر مقام تولہواں ہے یہ علاقہ بھی بدمذہبیت کے شکنجے میں ہے، آج سے بیس سال قبل میری حاضری ہوئی تھی تو معلوم ہوا کہ اس شہر کے سب سے معزز ومکرم ومحترم حضرت حافظ وقاری عبدالرحمن نعیمی صاحب وصال کرچکے ہیں اکثر لوگوں سے انکی تعریف وتوصیف سنکر اشتیاق پیدا ہوا کہ ان کی دینی خدمات کیا ہیں لوگوں نے بتایا کہ اس شہر میں وہابیت کا سیلاب آنے والا تھا مگر حضرت بڑے حافظ صاحب نے اس سیلاب کا بند باندھا ہے، جامع مسجد سے متصل ایک عظیم الشان ادارہ ہے جس کو حضرت نے خون پسینے سے سینچا ہے کثیر طلبہ کے آپ استاد تھے، آپ کی رحلت کے بعد وہ ادارہ بہت متاثر ہوا۔
اسی شہر میں اس وقت جامع ازہر سے فارغ التحصیل ایک ماہر عالم وفاضل حضرت علامہ مفتی نور محمدخالد مصباحی صاحب ہیں۔ کئی ادارے کے مہتمم ہیں حضرت سے ایک بار بات ہوئی فرما رہے تھے اس علاقے میں سنیت کا کام بہت مشکل ہے چونکہ وہابی دیوبندی تعلیم مفت دیتے ہیں اسلیے لوگ انکے مدرسے میں بچیوں کا داخلہ کرواتے ہیں ایسے نامساعد حالات میں ہمارے سنی علماء کس جانفشانی سے دین متین مسلک اعلی حضرت کا کام سر انجام دیتے ہیں یہ تو ان کا دل ہی جانتا ہے، ہمارے ہر سنی عالم دین خواہ وہ مدارس میں ہوں مساجد میں ہوں مکاتب میں ہوں بلاشبہ اپنی اپنی جگہ سب کی محنتیں ہیں کاوشیں ہیں ان کی قربانیاں ہیں۔
آپ غور کریں ایک وقت تھا کہ چھری پر بسم اللہ اللہ اکبر پڑھوا کر کئی کئی بکرے مرغا مرغی ذبح کرتے تھے اور آج الحمدللہ میرے علم کے مطابق کوئی ایسا گاؤں نہیں ہوگا الاماشاءاللہ جہاں عالم یا حافظ نہ ہوں؟
پھر یہ کہنا نسل کی جہالت علماء نیپال کی مرہون ومنت کیا یہ عدل وانصاف کی بولی ہے؟ کیا کوئی سلیم الطبع وسیع الفکر شخص ایسا سوچ سکتے ہیں؟ ہمارے ان اکابرین واساطین نے کیا کیا قربانیاں نہیں دیں، کونسے کونسے مصائب سے دوچار نہیں ہوئے، اگر ان موضوعات پر لکھا جائے تو یہ ایک الگ ضخیم کتاب تیار ہو جائے ہمارے ان اکابرین نے ایک ایک روپیہ اکھٹا کرکے گلی گلی نگر نگر ڈگر ڈگر جا جا کر ایک ایک سکہ جمع کیا تب جاکر نیپال میں مدارس کی چمکتی دمکتی عمارت اور مساجد کے فلک سے بات کرتے ہوئے مینار دیکھائی دے رہے ہیں۔
مگر افسوس ہمارے ان اکابرین کے ساتھ اراکین مدارس ومتولیان مساجد نے جو نا انصافی کی ہیں جسکو سن کر پڑھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے، پوری پوری زندگی کی قربانی دینے والے مدرس کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر انہیں مدارس سے بے دخل کیا گیا ہے، جن کو انھوں نے سینچا ہے، جن علماء کے ساتھ یہ حادثات واقعات ہوئے ہیں کاش کوئی ان کے دل سے جاکر پوچھے، بعض تو وہ ہیں جو اب اس دار فانی سے دار بقا کو جاچکے ہیں اور بعض تو ہیں جو آج بھی بقید حیات ہیں۔
قوم کی اسی روش کو دیکھتے ہوئے ہمارے بہت سے جدید علماء نے اس فلڈ کو خیرآباد کہہ کر کسب حلال کیلے کوئی تجارت یا کوئی ملازمت اختیار کی، اور بعض وہ ہیں جو اپنے پیارے وطن کو چھوڑ کر سات سمندر پار جا کر زندگی گزار رہے ہیں، بدیس میں آنے والے علماء کے احوال اگر جمع کیے جائیں تو انسان خون کے آنسوں رونے لگے، کیا آپ سوچ سکتے ہیں کوئی شخص ایسا بھی ہوگا جو اپنے بال بچوں سے دور ہونا چاہتا ہو؟ کوئی پاگل یا جانور بھی اپنا وطن اپنا ملک چھوڑنا گوارا نہیں کرتا، آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارے نیپال کے بہت سارے علماء بدیس میں آکر مقیم ہیں؟ کبھی آپ نے ان کے درد کو سمجھنے کی کوشش کی؟ کبھی ان کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کو سمجھا، ہر بدیس میں آنے والے خواہ عالم ہوں یا غیر عالم سبھوں کے ساتھ غم نہیں غموں کا پہاڑ ہے، کون عالم دین نہیں چاہتے ہیں ملک میں رہکر پڑھائیں؟ سبھوں کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ میں نے اتنی محنت ومشقت سے تعلیم حاصل کی ہے شب وروز حصول علم میں گزارا ہے اساتذہ کے پاؤں دبائے ہیں انکی جوتیاں سیدھی کی ہیں میں بھی دیس میں رہکر فروغ علم میں اپنا کردار ادا کروں، مگر افسوس ہماری قوم کی نا اہلی ونادانی نے ان علماء کو ترک وطن پہ مجبور کیا۔
جو علما بدیش میں ذریعہ معاش سے منسلک ہیں وہ وہاں صرف کمائی ہی نہیں کر رہے ہیں، بلکہ وہاں الحمدللہ بہت سے علما کمائی کے ساتھ تبلیغ اہل سنت کا بھی فریضہ انجام دے رہے ہیں اور ہماری بھولی بھالی قوم کو بے راہ ہونے سے بچانے کی بھرپور کوشش کرتے رہتے ہیں، اور بہت سے علما ہیں جو تصنیفی تحریری کاموں سے بھی جڑے ہوئے ہیں اور وہ سب دیش میں رہنے والے اکثر علما سے زیادہ دینی کام کرتے ہیں۔
آئے دن ہم سوشل میڈیا پر سنتے رہتے ہیں آج یہاں کے امام کو بلا عذر معطل کردیا گیا آج وہاں کے امام کو معزول کردیا گیا آج ہی کسی دربھنکہ کے امام صاحب کی درد بھری داستان سامنے آئی جس میں وہ کہتے ہیں ہم بھیک مانگ کر اپنا پیٹ اور بال بچوں کا پیٹ پال لیں گے مگر نہیں پڑھائیں گے، غور فرمائیں ایسے درد بھرے واقعات روزانہ کہیں نہ کہیں پیش آتے ہی رہتے ہیں، خود راقم السطور انا پسند اراکین اور ان کی روش سے اور کچھ ہماری جماعت کے نا فہم لوگوں کی وجہ سے اس فلڈ سے دور ہوا۔
غور کریں جب اس زمانے میں سہولیات کی کمی نہیں مراعات کی کمی نہیں پھر بھی اب ہمارے علماء اس فلڈ سے دور ہورہے ہیں تو جس زمانے میں نہ مراعات نہ سہولیات نہ لائٹ نہ موبائل نہ سائیکل نہ موٹر سائیکل تھی کتنی مشکلوں کا سامنا ان بزرگوں نے کیا ہوگا، کیسے کیسے پر خار وادیوں سے انکی زندگی گزری ہوگی پھر بھی وہ تعلیم وتعلم سے منسلک رہکر ہمارے لیے بہت کچھ کردیا۔
آج ضرورت ہیکہ ان کے لگائے گیے پودوں کو مزید ہرا بھرا کریں ان کے مشن کو عام وتام کریں اسکے لیے ہم سب کو متحد ہوکر آگے آنا ہوگا جو علماء پڑھانا چاہتے ہیں درس وتدریس سے شغف رکھتے ہیں وہ اپنا قیمتی وقت مدارس کو دیں اور جو مالی طور پر مدد کرسکتے ہیں وہ مالی مدد فرمائیں کیونکہ یہ مدارس ہمارے اکابرین نے ہمیں اور آپ کو تحفے میں دیا ہے اور تحفہ سنبھال کر ہی رکھا جاتا ہے اسلیے میرے عزیزوں پیاروں نوجوان علماء وطلباء احساس کمتری کا شکار خود کو نہ بنائیں بلکہ مستحکم ارادے کے ساتھ میدان میں آئیں اور کچھ ایسا کام کرجائیں کہ دنیا کہنے پر مجبور ہوجائے۔ علمائے نیپال زندہ باد طلبائے نیپال پائندہ باد
*شھاب الدین حنفی سمردہی*
نائب مہتمم جامعہ سیدہ فاطمہ للبنات جلیشور
مقیم حال الدولۃ السعودیہ
رابطہ نمبر 00966536090224
*۲۱؍اگست ۲۰۲۳م بروز پیر*

0 تبصرے