Header Ads Widget

Responsive Advertisement

حائضہ خواتین کے قضا روزے اور قضا نمازوں کے کیا احکام ہیں؟ نیز حالتِ روزہ میں حیض آ گیا تو کیا حکم ہے



حائضہ خواتین کے قضا روزے اور قضا نمازوں کے کیا احکام ہیں؟ نیز حالتِ روزہ میں حیض آ گیا تو کیا حکم ہے

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے متعلق کہ حائضہ خواتین کے قضا روزے اور قضا نمازوں کے کیا احکام ہیں؟ نیز حالتِ روزہ میں حیض آ گیا تو کیا اس وقت سے کھا پی سکتی ہے ؟ یا وقتِ افطار کا انتظار کرے ؟ از روئے شرع مستند جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں !!!


*سائل:۔ محمد بشیر القادری رضوی گلاب پوری کھنڈوہ ایم پی*


بسم اللہ الرحمن الرحیم

*الجواب بعون الملک الوھاب*

 (1) حالت حیض میں حائضہ کے لئے روزہ رکھنا اور نماز پڑھنا منع ہے، ان دنوں میں شریعت مطہرہ کی جانب سے نمازیں معاف ہیں، ان کی قضا بھی نہیں ہیں۔ البتہ روزوں کی قضا بعد رمضان اور دنوں میں رکھنا فرض ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

’’(یمنع الصلاۃ) مطلقا و لو سجدۃ شکر (و صوما) و جماعا (وتقضیہ) لزوما دونھا الحرج‘‘۔ (ج1، ص 484، 485، ط: دار عالم الکتب)

بہار شریعت میں ہے:

’’اس حالت میں روزہ رکھنا اور نماز پڑھنا حرام ہے ۔۔۔۔۔۔  ان دِنوں میں نمازیں معاف ہیں، ان کی قضا بھی نہیں، اور روزوں کی قضا اور دنوں میں رکھنا فرض ہے‘‘۔ (ج1، ص380، ط: مکتبۃ المدینہ)


(2) روزہ کی حالت میں حیض شروع ہو جانے سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے، چاہے زوال سے پہلے ہو یا بعد میں، ایسی عورت کے لیے کھانا پینا جائز ہے، اور اس کو روزے داروں کی مشابہت اختیار کرنا درست نہیں ہے،  البتہ اس کو چاہیے کہ دوسروں کے سامنے نہ کھائے، اس لیے کہ ایک  تو اس میں رمضان کا احترام ہے یعنی رمضان کے احترام میں وہ چھپ کر کھائے، دیکھا کر نہیں۔

 دوسرے یہ حیا کا تقاضا بھی ہے ، ورنہ کھانے پینے سے حالتِ ناپاکی کا اظہار و اعلان ہوگا۔

 بہار شریعت میں ہے:

’’عورت کو جب حیض و نفاس آگیا تو روزہ جاتا رہا ۔۔۔۔۔ حیض و نفاس والی کے لیے اختیار ہے کہ چھپ کر کھائے یا ظاہرا، روزہ کی طرح رہنا اس پر ضروری نہیں، مگر چھپ کر کھانا اولی ہے خصوصاً حیض والی کے لیے‘‘۔ (ص 1004، ایضا)


اس کا برعکس ایک مسئلہ یہ ہے کہ  عورت رمضان میں جس دن حیض سے پاک ہو جائے تو اس عورت کے لئے اس دن روزہ دار کی طرح بغیر کچھ کھائے پیے رہنا واجب ہے۔

بہار شریعت (ج1، ص381) میں ہے:

 "اگر پورے دس دن پر پاک ہوئی اور اتنا وقت رات کا باقی نہیں کہ ایک بار ﷲ اکبر کہہ لے تو اس دن کا روزہ اس پر واجب ہے اور جو کم میں پاک ہوئی اور اتنا وقت ہے کہ صبحِ صادق ہونے سے پہلے نہا کر کپڑے پہن کر ﷲ اکبر کہہ سکتی ہے تو روزہ فرض ہے، اگر نہالے تو بہتر ہے ورنہ بے نہائے نیت کرلے اور صبح کو نہالے *اور جو اتنا وقت بھی نہیں تو اس دن کا روزہ فرض نہ ہوا، البتہ روزہ داروں کی طرح رہنا واجب ہے، کوئی بات ایسی جو روزے کے خلاف ہو مثلاً کھانا، پینا حرام ہے"۔* واللہ تعالی اعلم بالصواب

کتبہ محمد کلام الدین نعمانی مصباحی

بنوٹا، مہوتری، نیپال

 4/ رمضان المبارک 1446ھ - 4/مارچ2025ء بروز منگل


*تصحیح و تصدیق*

قاضی نیپال، مفتی اعظم نیپال، حضرت علامہ

 *مفتی محمد عثمان برکاتی مصباحی* صاحب قبلہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے