بعد عصر قرآن پڑھنا منع کیا گیا ہے؟
کیا فرماتے علمائے کرام مفتیان مسئلہ ذیل میں کہ کیا بعد عصر قرآن پڑھنا منع کیا گیا ہے؟ شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟ مدلل و مفصل جواب عنایت فرمائیں۔
سائل:۔ ابو نعمان نقشبندی، ہلال پور، مہوتری
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب بعدِ عصر قرآن مجید کی تلاوت کر سکتے ہیں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ اوقاتِ مکروہ میں قرآن مجید کی تلاوت سے افضل یہ ہے کہ درود شریف پڑھے، یا دوسری دعائیں پڑھے مگر تلاوت ممنوع نہیں۔ افضل یہ ہے کہ دوسرے اذکار کرے۔
البحر الرائق میں بغیہ سے ہے: ’’الصلاۃ فیہا علی النبي صلی اللہ تعالی علیہ وسلم أفضل من قراءۃ القران‘‘۔
فتاوی شامی میں ہے: ’’أي في الأوقات الثلاثۃ وکالصلاۃ الدعاء والتسبیح... مفادہ أنہ لا کراہۃ أصلا؛ لأن ترک الفاضل لا کراہۃ فیہ‘‘۔ ایسا ہی فتاوی اشرفیہ (فتاوی شارح بخاری: ج5) میں ہے۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبہ محمد کلام الدین نعمانی مصباحی
بنوٹا، مہوتری، نیپال
8/رمضان المبارک 1445ھ - 8/مارچ 2024ء بروز ہفتہ


0 تبصرے