رمضان کے دنوں میں کھیل کے دوران کھانا پینا کیسا ہے
دبئی کے اسٹیڈیم میں انٹرنیشنل میچ کے دوران ایک مسلم کرکیٹر نے دن میں پِچ پر ہی کولڈ ڈرنکس پیا۔ جس پر علمائے کرام کے مختلف آرا آرہے ہیں ۔۔۔ چند علماءکرام یہ کہہ رہے ہیں ؟ کہ وہ مسلم کرکیٹر شرعی مجرم ہے۔ کیوں کہ اس نے روزہ نہیں رکھا !!! نیز مجمعِ عام کے سامنے کھلے طور پر کولڈ ڈرنکس پیا یہ بھی گناہ کا کام ہے ۔ جب کہ چند علماءکرام کا کہنا یہ ہے کہ وہ مسلم کرکیٹر چونکہ مسافر ہے؟ لہذا اس کے لیے مسافرت کے دوران روزہ نہ رکھنے کی چھوٹ دی گئی ہے.. لہذا وہ مجرم نہیں۔۔ صحیح کیا ہے؟ مستند جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں !!!
*سائل ۔ محمد بشیر القادری رضوی گلاب پوری کھنڈوہ ایم پی*
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں اولا تو کرکٹ کھیلنا ہی جائز نہیں ہے، کیوں کہ اس میں کئی طرح کی خرابیاں لازم آتی ہیں، مثلا غیر شرعی امور کا ارتکاب، لہو و لعب، دنیاوی منفعت، تماشہ بازی، فرائض میں کوتاہی یا غلفت وغیرہ۔
ارشادِ باری تعالی ہے:
’’وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ‘‘۔ (سورہ لقمان، آیت: 6)
البتہ اگر اس میں مذکورہ خرابیاں نہ پائی جائیں، بلکہ اسے بدن کی ورزش ، صحت اور تن درستی باقی رکھنے کے لیے یا کم از کم طبعیت کی تھکاوٹ دور کرنے کے لیے کھیلا جائے، اور اس میں غلو نہ کیا جائے ، اسی کو مشغلہ نہ بنایا جائے، اور ضروری کاموں میں اس سے حرج نہ پڑے تو پھر جسمانی ورزش کی حد تک کرکٹ کھیلنے کی اجازت ہے۔ ایسا ہی فتاوی مرکز تربیت افتا (ج2، ص 490) میں ہے۔
ثانیا:۔ جن علمائے کرام نے کرکٹر کو شرعی مجرم کہا ہے انہوں نے درست کہا ہے، کیوں کہ اگر کوئی شخص رمضان المبارک میں کسی عذر کے بغیر روزہ نہ رکھے اور رمضان کی بے احترامی کرتے ہوئے سرعام کھائے پیے تو ایسا شخص فاسق اور اسلامی شعائر کی توہین کا مرتکب ہے، ایسے افراد کے متعلق حکم یہ ہے کہ اولاً انہیں دین کے حکم (روزے) کی اہمیت وفضیلت بتائی جائے، روزہ ترک کرنے پر وعیدیں سنائی جائیں، حکمت کے ساتھ وعظ ونصیحت کی جائے، اگر ان کی اصلاح ہوجائے اور وہ توبہ کرلیں تو بہترہے، ورنہ مجرم کے جرم کی نوعیت کو مدنظر رکھ کر مسلمان حاکم اسے سخت سے سخت سزا دے سکتاہے؛ تاکہ دوسروں کے لیے عبرت ہو۔ البتہ اگر کوئی شخص اپنے آپ کو گناہ گار سمجھتے ہوئے روزہ نہیں رکھتا تو ایسا شخص فاسق وفاجر ہے،اسے توبہ تائب ہوناچاہیے۔ ایسا ہی در مختار مع شامی (ج2،ص 151) میں ہے۔
اور جن علما نے اسے مسافر کہہ کر بچانے کی کوشش کی ہے وہ غلط پر ہیں، کیوں کہ شرعی مسافر وہی ہو سکتا ہے جو کہیں پندرہ دن سے کم رہنے کی نیت سے گیا ہو، جب کہ یہ کرکٹر پندرہ دن سے زیادہ دنوں کے لئے وہاں گیا ہوا تھا، لہذا وہ مسافر نہیں ہے۔
اور اگر اس کو مسافر مان بھی لیتے ہیں پھر بھی اسے اعلانیہ نہیں کھانا پینا چائیے تھا، اولا تو رمضان المبارک کے احترام کا تقاضا یہ ہے کہ اس میں اعلانیہ نہ کھایا جائے، دوسرا یہ کہ جنہیں اس کی حقیقت کا علم نہیں ہوگا وہ بدگمانی میں مبتلا ہوں گے، اور جنہیں علم ہوگا اور وہ روزے سے ہوں گے ان کے لیے کھانے کے اشتہا کا باعث ہوگا۔
لہذا مذکورہ کرکٹر رمضان کے دن میں اعلانیہ کھانے پینے کی وجہ سے سخت گنہ گار ہے، اسے فورا اپنے گناہوں سے علی الاعلان توبہ کرنا ضروری ہے۔ اگر وہ توبہ نہیں کرتا ہے تو اس کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے۔ ایسا ہی فتاوی فقیہ ملت (ج1، ص 346) میں ہے۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبہ محمد کلام الدین نعمانی مصباحی
بنوٹا، مہوتری، نیپال
11/رمضان المبارک 1446ھ - 11/مارچ 2025ء بروز منگل


0 تبصرے