Header Ads Widget

Responsive Advertisement

جماعت کے وقت مسجد میں پیچھے بیٹھے رہنا کیسا ہے



جماعت کے وقت مسجد میں پیچھے بیٹھے رہنا کیسا ہے
 
شبینہ تراویح میں ؛ اور تین دن یا دس دن کی تراویح میں۔۔  مسجد کے صحن میں کچھ احباب لیٹے رہتے ہیں ۔ یا بیٹھے رہتے ہیں۔  جب دیکھتے ہیں کہ حافظ صاحب اب رکوع میں جانے والے ہیں؟  تب وہ جماعت میں شریک ہوتے ہیں ۔ آیا ان مقتدیوں کا ایسا کرنا از روئے شرع درست ہے یا نہیں؟   مستند جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں !!!


سائل ۔ محمد بشیر القادری رضوی گلاب پوری کھنڈوہ ایم پی


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

الجواب بعون الملک الوھاب تراویح میں امام کے رکوع کا انتظار کرنا اور امام کے رکوع میں جانے کے بعد جماعت میں شامل ہونا مکروہ ہے، اس میں منافقین کے ساتھ مشابہت بھی ہے، اس سے تراویح میں قرآن مجید ختم کرنے کی سنت بھی ادا نہیں ہوتی، اور ایسے لوگ پورے ثواب سے بھی محروم رہتے ہیں۔

جب کہ حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ فرماتے ہیں کہ ایسا کرنا ناجائز ہے۔

بہار شریعت میں ہے:

"مقتدی کو یہ جائز نہیں کہ بیٹھا رہے، جب امام رکوع کرنے کو ہو تو کھڑا ہو جائے کہ یہ منافقین سے مشابہت ہے". (ج1، ص693، مکتبۃ المدینہ)

ﷲ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:

 "اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰىۙ". (النساء: 142)

منافق جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں  تو تھکے جی سے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ویکرہ للمقتدی ان یقعد فی التراویح فاذا اراد الامام ان یرکع یقوم وکذا اذا غلبتہ النوم"۔ (فصل فی التراویح، ج1، ص131، ط دارالکتب العلمیہ) واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب 

کتبہ محمد کلام الدین نعمانی مصباحی 

بنوٹا، مہوتری، نیپال

9/رمضان المبارک 1446ھ - 9/مارچ 2025ء بروز اتوار 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے