١٢/ سال کا بچہ حافظِ قرآن ہے، تو اس نمازِ تراویح کی امامت کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے متعلق کہ ہمارے یہاں ١٢/ سال کا بچہ حافظِ قرآن ہے اس نے نمازِ تراویح کی امامت کی۔ بعدِ تراویح زید کہہ رہا ہے کہ کسی کی نمازِ تراویح نہیں ہوئی ۔ پوچھا گیا کیوں نماز تراویح نہیں ہوئی؟ تو زید نے کہا کہ نمازِ تراویح پڑھانے والا نابالغ ہے نیز اس کے چہرے پر سنتِ رسول (داڑھی) بھی نہیں آئی ہے ۔ اس لیے کسی کی نمازِ تراویح نہیں ہوئی ۔ آیا ایسی صورت میں بارہ سالہ حافظِ قرآن کی اقتدا میں پڑھنے والے مقتدیوں کی نماز ہو رہی ہے ؟ یا نہیں ہو رہی ہے ؟ از روئے شرع مستند جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں !!!
*سائل:۔ محمد بشیر القادری رضوی گلاب پوری کھنڈوہ ایم پی*
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب امامت کے لئے امام کا بالغ ہونا شرط ہے، اور بلوغت کی عمر شریعت مطہر میں لڑکے کے لئے بارہ سال سے پندرہ سال تک ہے، اگر بارہ سال کے بعد لڑکے میں بلوغت کی کوئی علامت پائی جاتی ہے، مثلا احتلام یا انزال ہو جائے، تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے، اور اگر کوئی علامت نہیں پائی جاتی ہے تو پندرہ سال کے بعد ہی بالغ مانا جائے گا، اس سے پہلے اس کے پیچھے کوئی بھی نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ حافظ کے اندر اگر بلوغت کی علامت پائی جاتی ہے تو اس کی اقتدا میں نماز درست ہے، ورنہ جائز نہیں ہے۔
در مختار میں ہے:
’’بلوغ الغلام بالاحتلام والجاریة بالاحتلام والحیض فإن لم یوجد فیہما شیئ فحتی یتم لکل منہا خمس عشرة سنة، بہ یفتی‘‘۔ (ج9، ص225، ط: زکریا)
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي میں ہے:
"وأدنى مدة البلوغ للغلام اثنتا عشرة سنةً، وللأنثى تسع سنين، وهو المختار عند الحنفية"۔ (ج6، ص473)
فتاوی رضویہ میں ہے:
’’(نابالغ)نابالغوں کی امامت تراویح تو در کنار ،فرائض میں بھی کرسکتا ہے۔۔۔ مگر بالغوں کی امامت مذہب اصح میں مطلقا نہیں کرسکتا، حتی کہ تراویح و نافلہ میں بھی۔ ملخصا‘‘ (ج6،ص477،478، ط: رضا فاؤنڈیشن ،لاھور)
رہی بات داڑھی کی تو امامت کے لئے داڑھی کا ہونا ضروری نہیں ہے اگر پہلے سے نہ ہو تو، لہذا اگر داڑھی کے علاوہ امامت کی تمام شرطیں پائی جاتی ہیں تو اس کی اقتدا میں نماز درست ہے۔
فتاوی فیض الرسول میں ہے:
’’زید اگر بالغ صحیح العقیدہ صحیح الطہارۃ صحیح القرأۃ ہے اور اس میں کوئی وجہ مانع امامت نہیں تو اس کے پیچھے نماز ہو جائے گی اگرچہ ابھی داڑھی نہیں نکلی ہے‘‘۔ (ج1، ص 302) واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبہ محمد کلام الدین نعمانی مصباحی
بنوٹا، مہوتری، نیپال
3/ رمضان المبارک 1446ھ - 3/مارچ2025ء بروز پیر


0 تبصرے