Header Ads Widget

Responsive Advertisement

نماز میں قرآن و تکبیرات انتقالات کتنی آواز میں پڑھنی چاہئے



نماز میں قرآن و تکبیرات انتقالات کتنی آواز میں پڑھنی چاہئے

ہم نے محسوس کیا ہے کہ اکثر و بیشتر نمازی حضرات حالتِ نماز میں اتنی کم آواز میں تلاوتِ قرآن مجید کرتے ہیں کہ وہ خود بھی نہیں سن سکتے  ہیں ؟ اور کچھ نمازی تو زبان بھی نہیں ہلاتے ہیں؟ بلکہ دل ہی دل میں تلاوتِ قرآن اور تسبیحات پڑھ لیتے ہیں۔  لہذا 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ان مسائل کے متعلق کہ  حالتِ نماز میں اتنی کم آواز میں تلاوت قرآن مجید کرنا کہ خود بھی نہ سن سکے؟ یا دل ہی دل میں تلاوت کر لینے سے تلاوت ہو جائے گی؟  اور نماز ہو جائے گی ؟ تسبیحات و تکبیراتِ انتقال میں بھی آواز نہیں نکالتے ہیں ؟ بلکہ دل ہی دل میں پڑھ لیتے ہیں ؟ کیا یہ درست ہے؟  از روئے شرع مستند جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں !!!


*سائل ۔ محمد بشیر القادری رضوی گلاب پوری کھنڈوہ ایم پی*


بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب قرآن مجید آہستہ پڑھنے کا ادنی درجہ یہ ہے کہ خود سن سکے، اگر کوئی صرف ہونٹ ہلائے یا اتنی آواز میں پڑھے کہ خود بھی نہ سن سکے تو نماز نہ ہوگی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

’’ان صحح الحروف بلسانہ و لم یسمع نفسہ لایجوز و بہ اخذ عامۃ المشائخ ھکذا فی المحیط وھو المختار ھکذا فی السراجیہ وھو الصحیح ھکذا فی النقایہ‘‘۔ (کتاب الصلاۃ، الباب الرابع في صفۃ الصلاۃ، الفصل الأول، ج1، ص69)

بہار شریعت میں ہے:

’’اور آہستہ پڑھنے میں بھی اتنا ہونا ضرور ہے کہ خود سنے، اگر حروف کی تصحیح تو کی مگر اس قدر آہستہ کہ خود نہ سنا اور کوئی مانع مثلاً شور و غل یا ثقل سماعت بھی نہیں، تو نماز نہ ہوئی‘‘۔ (ج1، ص 511، ط: مکتبۃ المدینہ)

ایسا ہی فتاوی فیض الرسول (ج1، ص 241) میں ہے۔


تکبیرات انتقال مقتدی و منفرد کے لئے زبان سے آہستہ کہنا سنت ہے، لہذا اگر کسی نے کسی وجہ سے چھوڑ دیا یا اتنا آہستہ کہا کہ خود بھی نہ سکے پھر بھی اس کی نماز ہو جائے گی، لیکن ایسا کرنا درست نہیں، کیوں کہ یہ خلافِ سنت ہے۔

در مختار میں ہے:

"(وجهر الإمام بالتكبير) بقدر حاجته للإعلام بالدخول والانتقال، وكذا بالتسميع والسلام، وأما المؤتم والمنفرد فيسمع نفسه"۔(ج1، ص475)

بہار شریعت میں ہے:

’’یوہیں جس جگہ کچھ پڑھنا یا کہنا مقرر کیا گیا ہے، اس سے یہی مقصد ہے کہ کم سے کم اتنا ہو کہ خود سن سکے‘‘۔ (ص 512، ایضا)


لہذا صورت مسئولہ میں اگر کسی نے اتنی آواز سے قرآن پڑھا کہ بغیر کسی شور و غل کے خود بھی نہ سن سکے تو اس کی نماز نہ ہوگی، کیوں کہ نماز میں قرأت کرنا فرض ہے۔

اسی طرح اگر کسی نے اس قدر آہستہ تکبیر کہا یا تسبیحات پڑھی کہ خود بھی نہ سن سکے تو اس نے بھی خلاف سنت کیا اگرچہ اس کی نماز ہو جائے گی۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب۔

کتبہ محمد کلام الدین نعمانی مصباحی 

بنوٹا، مہوتری، نیپال

8/رمضان المبارک 1445ھ - 8/مارچ 2024ء بروز ہفتہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے