رشتےداروں کو بغیر اظہارِ زکوٰۃ کی رقم کیے ہوئے زکوٰۃ کی رقم دے دینا کیسا ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ان مسائل کے متعلق کہ مامو ؛ پھوپھا ؛ بہنوئی ساڑھو اس قسم کے دور کے رشتےداروں کو بغیر اظہارِ زکوٰۃ کی رقم کیے ہوئے زکوٰۃ کی رقم دے دینا کیسا ہے ؟ نیز انھیں رشتیداروں میں سے سال بھر کے اندر کسی پریشانی کے موقعے پر زکوۃ کی رقم سے مدد کرنا اور اسے زکوۃ میں منہا کر لینا کیسا ہے ؟ از روئے شرع مستند جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں !!!
*سائل:۔ محمد بشیر القادری رضوی گلاب پوری کھنڈوہ ایم پی*
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں مذکورہ حضرات اگر واقعی شرعی فقیر ہیں تو انہیں بغیر بتائے ہوئے بھی دے سکتے ہیں، فرض ادا ہو جائے گا، بتانا کوئی ضروری نہیں ہے، بس نیت ہونی چاہئے۔ اور اگر بتانا ہی پڑے تو بطور ہدیہ وغیرہ بتا دیں۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
’’ومن أعطى مسكيناً دراهم وسماها هبةً أو قرضاً ونوى الزكاة فإنها تجزيه، وهو الأصح، هكذا في البحر الرائق ناقلاً عن المبتغى والقنية‘‘۔ (ج1، ص 171)
فتاوی رضویہ میں ہے:
’’یہ بھی کچھ ضرور نہیں کہ انہیں زکوۃ جتا ہی کر دے بلکہ دل میں زکوۃ کی نیت ہو انہیں عیدی وغیرہا یا شادیوں کی رسوم خواہ کسی بات کا نام کر کے مالک کر دے زکوۃ ادا ہو جائے گی‘‘۔ (ج10، ص264)
بہار شریعت میں ہے:
"زکاۃ دینے میں اس کی ضرورت نہیں کہ فقیر کو زکاۃ کہہ کر دے، بلکہ صرف نیّت زکاۃ کافی ہے یہاں تک کہ اگر ہبہ یا قرض کہہ کر دے اور نیّت زکاۃ کی ہو ادا ہوگئی۔ یو ہیں نذر یا ہدیہ یا پان کھانے یا بچوں کے مٹھائی کھانے یا عیدی کے نام سے دی ادا ہوگئی۔ بعض محتاج ضرورت مند زکاۃ کا روپیہ نہیں لینا چاہتے، انھیں زکاۃ کہہ کر دیا جائے گا تو نہیں لیں گے لہٰذا زکاۃ کا لفظ نہ کہے"۔ (ج1، ص890، مکتبۃ المدینہ)
سال پورا ہونے سے پہلے بھی زکات کی رقم سے فقرا و مساکین کو تھوڑا تھوڑا کر کے دے سکتے ہیں، البتہ جب سال پورا ہو جائے تو حساب کریں اور دیکھیں کہ اگر پورا ہوگیا ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ جو باقی ہے اسے بھی فورا ادا کر دے، تاخیر کرنا جائز نہیں ہے، اور اگر زیادہ ہوگیا ہے تو اسے آئندہ سال کی زکات میں حساب کرلیں۔
در مختار میں ہے:
’’(وافتراضها عمري) أي على التراخي وصححه الباقاني وغيره (وقيل: فوري) أي واجب على الفور (وعليه الفتوى) كما في شرح الوهبانية (فيأثم بتأخيرها) بلا عذر (وترد شهادته) لأن الأمر بالصرف إلى الفقير معه قرينة الفور وهي أنه لدفع حاجته وهي معجلة، فمتى لم تجب على الفور لم يحصل المقصود من الإيجاب على وجه التمام، وتمامه في الفتح"۔ (ج2، ص271)
بہار شریعت میں ہے:
"مالکِ نصاب سال تمام سے پیشتر بھی ادا کر سکتا ہے، بشرطیکہ سال تمام پر بھی اس نصاب کا مالک رہے ۔۔۔۔۔۔۔ مالک نصاب پیشتر سے چند سال کی بھی زکاۃ دے سکتا ہے، لہٰذا مناسب ہے کہ تھوڑا تھوڑا زکاۃ میں دیتا رہے، ختم سال پر حساب کرے، اگر زکاۃ پوری ہوگئی فبہا اور کچھ کمی ہو تو اب فوراً دیدے، تاخیر جائز نہیں کہ نہ اُس کی اجازت کہ اب تھوڑا تھوڑا کر کے ادا کرے، بلکہ جو کچھ باقی ہے کُل فوراً ادا کر دے، اور زیادہ دے دیا ہے تو سال آئندہ میں مُجرا کر دے"۔ (ص891، ایضا) واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد کلام الدین نعمانی مصباحی
بنوٹا، مہوتری، نیپال
6/رمضان المبارک 1445ھ - 6/مارچ 2024ء بروز جمعرات


0 تبصرے