Header Ads Widget

Responsive Advertisement

فاسق غیر معلن کی اقتدا کا حکم



فاسق غیر معلن کی اقتدا کا حکم


کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے متعلق کہ زید ایک مسجد میں امامت کرتا ہے نیز تراویح بھی پڑھاتا ہے مگر بلا عذر شرعی روزہ نہیں رکھتا ہے (حالانکہ یہ بات زید کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے) بلکہ سارے مقتدی یہی سمجھتے ہیں کہ ہمارے امام صاحب صوم و صلوۃ کے پابند ہیں ۔ آیا ایسی صورت میں زید کی اقتدا میں پڑھنے والے مقتدیوں کی نماز ہو رہی ہے ؟ یا نہیں ہو رہی ہے ؟ از روئے شرع جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں !!!


سائل:۔

محمد بشیر القادری رضوی گلاب پوری، کھنڈوہ ایم پی


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں زید بغیر عذر شرعی روزہ چھوڑنے کی وجہ سے گناہ کبیرہ کا مرتکب اور فاسق ہے، کیوں کہ بغیر کسی شرعی عذر کے روزہ چھوڑنا سخت گناہ اور حرام ہے۔

اب جب کہ زید کا فسق ظاہر نہیں یعنی ایک سے زیادہ لوگوں کو معلوم نہیں تو وہ فاسق غیر معلن ہے ، اور فاسق غیر معلن کے پیچھے نماز مکروہ تنزیہی ہے یعنی جائز ہے، مگر خلاف اولیٰ۔

حدیث پاک میں ہے:

''عن أبي هريرة قال قال رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم: من أفطر يوماً من رمضان من غير رخصة و لا مرض لم يقض عنه صوم الدهر كلّه و إن صامه''. (جامع الترمذي: أبواب الصوم، باب ماجاء في الإفطار متعمدا، الحدیث :  723 ، ج 2 ، ص 175)(مشکاة المصابیح: ج1، ص177)

ترجمہ: جس آدمی نے عذر اور بیماری کے بغیر رمضان کا ایک روزہ چھوڑ دیا تو عمر بھر روزہ رکھنے سے ایک روزے کی تلافی نہیں ہوگی، اگر چہ قضا کے طور پر عمر بھر روزے بھی رکھ لے۔


فتاوی رضویہ میں ہے:

"فاسق کے پیچھے نماز مکر وہ ہے پھر اگر معلن نہ ہو یعنی وہ گناہ چھپ کر کرتا ہو معروف و مشہور نہ ہو تو کراہت تنزیہی ہے یعنی خلاف اولی ، اگر فاسق معلن ہے کہ علانیہ کبیرہ کا ارتکاب یا صغیرہ پر اصرار کرتا ہے تو اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پڑھ لی تو پھیر نی واجب "

( کتاب الصلاۃ ، باب الامامۃ ، ج6، ص601، ط رضافاؤنڈیشن لاہور)

اسی میں ہے:

" اگر کوئی گناہ چھپا کر کرتا ہے تو اس کے پیچھے نماز پڑھیں اور اس کے فسق کے سبب جماعت نہ چھوڑیں "۔ (ص 600، ایضا)


اور اگر ایک سے زیادہ لوگوں پر اس کا فسق ظاہر ہے تو پھر زید فاسق معلن ہے، اس کے پیچھے نماز تراویح یا کوئی بھی نماز پڑھنی مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے۔

غنیہ شرح منیہ میں ہے:

"ولو قدموا فاسقا یاثمون" (513)

الدر المختار کتاب الصلاۃ میں ہے:

"کل صلاۃ ادیت مع کراہۃ التحریم تجب اعادتھا". (ج1، ص337) 


صورت مسئولہ میں اگر زید کے روزہ چھوڑنے کا علم ایک سے زیادہ لوگوں کو نہیں ہے تو نماز جائز ہے مگر خلاف اولی ہے، لیکن پھر بھی زید فرض ترک کرنے کی وجہ سے سخت گناہ گار اور فاسق ہے،  لہذا زید فورا اپنے گناہوں سے توبہ کرے، اور فرض کی ادائیگی کرے، یا اپنی امامت سے خود ہی استعفی دے دے۔ واللہ اعلم باالصواب 

کتبہ محمد کلام الدین نعمانی مصباحی 

بنوٹا، مہوتری، نیپال

2/ رمضان المبارک 1446ھ - 2/مارچ2025ء بروز اتوار 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے