Header Ads Widget

Responsive Advertisement

3 بھائی اور 2 بھن ھے وراثت میں کس کو کتنا ملے گا



3 بھائی اور 2 بھن ھے وراثت میں کس کو کتنا ملے گا


السلام و علیکم و رحمۃ اللہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام مفتیان کرام والد اور والدہ دونوں کا انتقال ھو گیا ہے

3 بھائی اور 2 بھن ھے وراثت میں کس کو کتنا ملے گا

والد نے اپنی زندگی میں 1 بھن کے نام 1گھر لکھ دیا تھا مگر اس کا قبضہ نہیں دیا تھا اسکا کرایہ بھی والد ھی لیتے تھے 

اب  بہن کا کہنا ہے کے یہ گھر کو ترکے میں شامل نہیں کیا جائے گا اس کے علاوہ جو بھی ترکا ھے اس میں سے میرا حصہ دیا جائے اس گھر پر صرف میرا اختیار ھے

کیا بہن کا مطالبہ درست ھے

رہنمائی فرمائیں مہربانی ھو گی۔

*سائل:- اشرف علی ممبئی انڈیا*

9821386056

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں جس بہن کے نام گھر لکھا گیا ہے اور قبضہ نہیں دلایا گیا ہے تو یہ ہبہ تام نہیں ہوا، اور نہ گھر اس بہن کی ملکیت ہوئی، کیوں کہ ہبہ کے تام ہونے کے قبضہ لازم و ضروری ہے، اگرچہ رجسٹری ہبہ ہے لیکن قبضہ نہیں تو ہبہ تام نہیں ہوا۔

لہذا تاحیات اس گھر کا مالک باپ ہی رہا اور بعد وفات موہوب زمین بھی اس کا ترکہ ہو کر اس کے وارثین میں تقسیم ہوگی۔

در مختار میں ہے:

(وَتَتِمُّ) الْهِبَةُ (بِالْقَبْضِ) الْكَامِلِ (وَلَوْ الْمَوْهُوبُ شَاغِلًا لِمِلْكِ الْوَاهِبِ لَا مَشْغُولًا بِهِ فِي مَحُوزٍ مَقْسُومٍ وَمَشَاعٍ لَا، يُقْسَمَ لا فِيمَا يُقْسَمُ وَلَوْ لِشَرِيكِهِ فَإِنْ قَسَمَهُ وَسَلَّمَهُ صَحَّ ) لِزَوَالِ الْمَانِعِ (وَلَوْ سَلَّمَهُ شَائِعًا لَا يَمْلِكُهُ فَلَا يَنْفُذُ تَصَرُّفُهُ فِيهِ)۔ (ج 5، ص690-692)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"مقبوضا حتی لا یثبت الملک للموھوب لہ قبل القبض الخ"۔ ( ج 6، ص 376)

فتاوی رضویہ میں ہے:

"نام لکھا دینا ہبہ ہے اور ہبہ جائداد صالحِ قسمت كا بلا تقسیم صحیح و نافذ نہیں"۔ (ج8، ص 54 ،کتاب الهبة ، رضا اکیڈمی)

بہار شریعت میں ہے:

"ہبہ کے لیے قبضۂ کامل کی ضرورت ہے اگر موہوب شے (یعنی جو چیز ہبہ کی گئی ہے) واہب کی ملک کو شاغل ہوتو قبضۂ کامل ہوگیا اور ہبہ تمام ہوگیا اور اُس کی ملک میں مشغول ہے تو قبضۂ کامل نہیں ہوا"۔ (ج3، ص71)


لہذا صورت مسئولہ میں بصحتِ صدقِ سوال، بعد تقدیم ما تقدم علی الارث والدین کے کل ترکہ کو آٹھ حصوں میں تقسیم کیے جائیں گے، ان میں سے دو دو حصے تینوں بھائیوں کو دیے جائیں اور ایک ایک حصہ دونوں بہنوں کو دیے جائیں۔


مسئلہ۔۔8۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھائی۔  بھائی۔  بھائی۔  بہن۔   بہن۔ 

  2۔        2۔       2۔        1۔      1۔ 

  

صورت مسئولہ میں مذکورہ تقسیم کے حساب سے حصے دیے جائیں۔

القرآن الکریم میں ہے:

"يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ"۔ (النساء، آیت 11)

یعنی اللہ کا حکم ہے کہ لڑکا کو لڑکی کا دو گنا حصہ دیا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب 

کتبہ محمد کلام الدین نعمانی مصباحی 

بنوٹا، مہوتری، نیپال

7/رمضان المبارک 1445ھ - 7/مارچ 2024ء بروز جمعہ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے