Header Ads Widget

Responsive Advertisement

رخصتی سے قبل طلاق کا حکم ہے

رخصتی سے قبل طلاق کا حکم ہے




السلام علیکم 

ایک آدمی نے رخصتی سے پہلے ہی اپنی منکوحہ کو تین طلاقیں دے دیں کیا عورت کو عدت گزارنا ہوگی اور بغیر کسی دوسرے مرد سے نکاح کیے دوبارہ اسی مرد سے شادی ہو سکتی ہے مطلب حلالہ کیے بغیر اسی شخص سے دوبارہ نکاح ہو سکتا کہ نہی ؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں مذکورہ طلاق کی دو صورتیں ہیں۔ 

اولا یہ کہ اگر شوہر نے ایک ہی لفظ میں تین طلاق دے دیا ہے جیسے تجھے تین طلاق، تو پھر طلاق مغلظہ واقع ہو گئی ہے، اب بغیر حلالہ نکاح جائز نہیں ہے۔

البتہ اس میں (یعنی غیر مدخولہ کی طلاق میں) عدت نہیں ہے، بغیر عدت دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔

ثانیا اگر شوہر نے ایک لفظ میں نہیں بلکہ الگ الگ طلاق دیا ہے جیسے تجھے طلاق تجھے طلاق تجھے طلاق، یا تجھے الگ الگ طلاق۔ تو اس صورت میں صرف پہلی ایک طلاق واقع ہوگی اور عورت فورا بائن ہو کر نکاح سے نکل جائے گی۔

ایسی صورت میں دوبارہ دونوں رضامندی سے پھر سے نکاح کرنا چاہتے ہیں تو نئے مہر کے ساتھ کر سکتے ہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وَإِنْ فَرَّقَ) بِوَصْفٍ أَوْ خَبَرٍ أَوْ جُمَلٍ بِعَطْفٍ أَوْ غَيْرِهِ (بَانَتْ بِالْأُولَى) لَا إلَى عِدَّةٍ (وَ) لِذَا (لَمْ تَقَعْ الثَّانِيَةُ)". (با ب طلاق غیر المدخول بھا، ج3، ص286)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے:

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : إذَا طَلَّقَ الْبِكْرَ وَاحِدَةً فَقَدْ بَتَّهَا ، وَإِذَا طَلَّقَهَا ثَلاَثًا لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ.

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے باکرہ کو ایک طلاق دی تو وہ بائنہ ہو جائے گی اور اگر اسے دخول سے پہلے تین طلاقیں دیدے تو وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کر لے۔ (ابن أبي شيبة، المصنف، 4: 66، رقم:17853)

غیرمدخولہ کی طلاق کے بارے فقہائے احناف کا مؤقف ہے:

فَإِنْ فَرَّقَ الطَّلَاقَ بَانَتْ بِالْأُولَى وَلَمْ تَقَعْ الثَّانِيَةُ وَالثَّالِثَةُ) وَذَلِكَ مِثْلُ أَنْ يَقُولَ: أَنْتِ طَالِقٌ طَالِقٌ طَالِقٌ لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدَةٍ إيقَاعٌ عَلَى حِدَةٍ إذَا لَمْ يَذْكُرْ فِي آخِرِ كَلَامِهِ مَا يُغَيِّرُ صَدْرَهُ حَتَّى يَتَوَقَّفَ عَلَيْهِ فَتَقَعُ الْأُولَى فِي الْحَالِ فَتُصَادِفُهَا الثَّانِيَةُ وَهِيَ مُبَانَةٌ.(الفتاوی الهندية، 1: 373 - فتح القدير، 4: 55، بيروت)

بہار شريعت میں ہے:

"غیر مدخولہ کو کہا تجھے تین طلاقیں تو تین ہو نگی اوراگر کہا تجھے طلاق تجھے طلاق تجھے طلاق یاکہاتجھے طلاق طلاق طلاق یا کہا تجھے طلاق ہے ایک اور ایک اور ایک تو ان صورتوں میں ایک بائن واقع ہوگی باقی لغو و بیکار ہیں یعنی چند لفظوں سے واقع کرنے میں صرف پہلے لفظ سے واقع ہوگی اور باقی کے لیے محل نہ رہے گی اور موطؤہ میں بہر حال تین واقع ہو نگی"۔ (ج2، ص127، مكتبة المدينه) والله تعالى اعلم بالصواب

محمد كلام الدين نعماني مصباحي امجدي

كتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه

               بنوٹا، مہوتری، نیپال 

3/ صفر المظفر 1447ھ 29/جولائی 2025ء بروز منگل

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے