السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حضور بعد سلام عرض ہے کہ اس دعا کی اصلاح فرما دیجئے معترض کا کہنا ہے کہ ولا تحاسبنا یو القیمہ پڑھنا غلط، حضور کیا یہ صحیح ہے جواب عنایت فرماے مہربانی ہو گی۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
حساب حق ہے،یعنی قراٰن و سنّت اور اجماع سے ثابت ہے۔ مومن ،کافر،انسان اور جنّات سب کا حساب ہو گا سوائے اُن کے جن کا اِسْتِثْناء کیا گیا ہے۔(تحفۃ المرید علی جوہرۃ التوحید،ص413 ملتقطاً)
نبیِ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ والہ و سلم نے فرمایا:
میری اُمّت سے 70 ہزار بےحساب جنّت میں داخل ہوں گے اور ان کے طفیل میں ہر ایک کے ساتھ 70 ہزار اور اللہ کریم ان کے ساتھ تین جماعتیں اور کردے گا، معلوم نہیں ہر جماعت میں کتنے ہوں گے، اس کا شمار وہی جانے۔
(بہارِ شریعت، ج1،ص143بحوالہ مسند احمد: ج1،ص419، حدیث: 1706مفہوماً)
لہذا مذکورہ دعا کو پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ ایسی دعا ضرور کرنی چاہئیے اور اپنے اعمال کی اصلاح کرنی چاہئیے۔
مذکورہ دعا کا مطلب یہی ہے کہ "اے اللہ موت سے پہلے ہماری مغفرت فرمادے، اے اللہ موت کے وقت ہم پر رحم فرما یعنی موت کی سختی سے بچا اور آسان موت دے، اور جب موت آ جائے تو موت کے بعد ہمیں عذاب دینا بلکہ ہماری گناہوں کو مٹا کر ثواب دینا، *اور قیامت کے دن ہمارا حساب نہ لینا، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے*۔
یعنی اے اللہ رب العزت تو قادر مطلق ہے تیری بارگاہ میں دعا کرتا ہوں کہ تو قیامت کے دن مجھ سے حساب نہ لینا بلکہ اپنی شان کریمی کے صدقے میری گناہوں کو معاف فرما کر بے حساب جنت میں داخل کر دینا، یا ان لوگوں میں سے کر دینا جن کو تو نے بے حساب بخشش کا وعدہ فرما لیا ہے۔
اس طرح سے دعا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
کتبہ محمد کلام الدین نعمانی مصباحی امجدی
بنوٹا، مہوتری، نیپال
14/ذی الحجہ 1446ھ 11/جون 2025ء بروز بدھ


0 تبصرے