Header Ads Widget

Responsive Advertisement

بیٹے نے اپنی کمائی سے زمین خرید کر باپ کے نام کردیا، تو اس کا مالک کون



*بیٹے نے اپنی کمائی سے زمین خرید کر باپ کے نام کردیا، تو اس کا مالک کون؟*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام وہ مفتیان عظام اِس مسئلے کے بارے میں 

زید کا سوال ہے کہ اس کے 6 بھائی ہیں اور ان کی 3 ایکڑ زمین ہے جس میں 1.5 ایکڑ ان کے والد کی ہے' اور 1.5 ایکڑ اس کے 2 بڑے بھائیوں نے خریدی تھی والد کے نام سے اور اس زمین میں  تمام بھائیوں کا نام ہے جب تک والدین با حیات تھے۔ تو کچھ نہیں تھا اور جب وفات ہوئی تو بدل گئے۔اس زمین پر ہم نے اور والد صاحب نے بہت محنت کی ہے، اب وہ اگر کہتے کے میں نے خریدی تو واپس کردیں یا اس پر ہمارا حق ہے؟ قرآن شریف وہ حدیث کی روشنی جواب عنایت فرمائیں۔


*سائل: ۔احمد رضا کرناٹکا انڈیا*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں سوال توضیح طلب ہے، پھر بھی جو ممکنہ صورتیں ہیں وہ درج ہیں۔

 (الف) اگر مذکورہ دونوں بھائیوں نے مذکورہ زمین (1.5 ایکڑ) باپ کی عیال میں رہتے ہوئے خریدا ہے تو یہ باپ کا ترکہ ہے، اس میں سبھی بھائیوں کا حصہ برابر برابر ہے۔


(ب) اور اگر وہ باپ سے مکمل الگ رہ کر اپنے مستقل کاروبار کے ذریعہ کما کر خریدا ہے، پھر اپنے باپ کے نام کردیا ہے اور انہیں مالکانہ اختیار دے دیا ہے تو یہ زمین بھی باپ کا ترکہ ہے، سارے بھائیوں کا برابر برابر حصہ ہے۔ 

(ج) یا باپ کے نام سے زمین کردیا ہے لیکن مالکانہ اختیار نہیں دیا ہے تو وہ 1.5 ایکڑ زمین خاص ان دونوں بھائیوں کی ہے۔

 اور بقیہ 1.5 ایکڑ زمین میں سبھی چھ بھائیوں کا حصہ برابر برابر ہوگا۔


اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ فتاوی خیریہ و عقود کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں:

"جب تک اس کا خورد و نوش ذمہ پدر تھا اور اپنا کوئی ذاتی مال و کسب جُداگانہ نہ رکھتا تھا ۔۔۔۔۔ تو کچھ ایسی وجہ و حالت میں کمایا سب کچھ باپ کا ہے جس میں بیٹے کے لیے کوئی حق ملک نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ 

"اور جو کچھ مال اس کے سوا پیدا کیا یعنی اس زمانہ میں کہ اس کا خوردو نوش باپ سے جدا تھا یا اپنے ذاتی مال سے کوئی تجارت کی یا کسب پدری سے الگ کوئی کسب خاص مستقل اپنا کیا، یہ اموال خاص بیٹے کے ٹھہریں گے"۔ (فتاوی رضویہ قدیم: ج7، ص324)


سوال توضیح طلب ہے، لیکن پھر بھی سوال سے یہی ظاہر ہے کہ پہلی دو صورتوں میں سے کوئی ایک صورت لازمی ہے، ان صورتوں میں ساری زمین باپ کا ترکہ ہے جس سے تمام بھائیوں کا حصہ برابر برابر ہوگا۔ 


واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب


*کتبہ محمد کلام الدین نعمانی مصباحی*

 *بنوٹا، مہوتری، نیپال*

 *15/رمضان المبارک 1446ھ 15/مارچ 2025ء بروزسنیچر*


*مصدقین*

*قاضی نیپال، مفتی اعظم نیپال مفتی محمد عثمان برکاتی مصباحی صاحب قبلہ بانی مرکزی ادارہ شرعیہ کاٹھمنڈو نیپال و بانی و مہتمم دارالعلوم فیضان مدینہ جنکپور*


*مفتی مجیب قادری لہان 18البرکاتی علما فاؤنڈیشن، نیپال*

15/03/2025

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے