السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ علما کرام کی بارگاہ میں عرض ہے کہ عمرہ کے موقعہ پر میقات پر گئے اور احرام باندھے اور نیت کئے اور طواف بھی کئے ہیں اب معلوم ہوا کہ اندر سیلا ھوا کپڑا ہے تو اب حکم کیا ہوگا
سائل۔ رفیق
آندھراپردیش
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں وہ کپڑا احرام کی چادر ہے اور وہ اندر سے کٹنے پھٹنے یا جوڑ کی وجہ سے سلی ہوئی ہے، تو ایسی صورت میں کچھ بھی نہیں ہے نہ کفارہ نہ صدقہ۔
کیوں کہ سلا ہوا کپڑا پہننے سے جو منع کیا گیا ہے اس سے مراد عادۃ سلا ہوا پہننے کا ہے۔ مثلا کرتا، انگرکھا، کوٹ، پینٹ، شرٹ وغیرہ۔
اسی طرح اگر کسی نے ان کپڑوں کو پہننے کے بجائے اپنے کندھوں وغیرہ پہ رکھ لے تو کچھ بھی نہیں ہے۔
بہار شریعت میں ہے:
"پہننے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کپڑا اس طرح پہنے جیسے عادۃً پہنا جاتا ہے، ورنہ اگر کرتے کا تہبند باندھ لیا یا پاجامہ کو تہبند کی طرح لپیٹا پاؤں پائنچے میں نہ ڈالے تو کچھ نہیں۔ یوہیں انگرکھا پھیلا کر دونوں شانوں پر رکھ لیا، آستینوں میں ہاتھ نہ ڈالے تو کفارہ نہیں مگر مکروہ ہے، اور مونڈھوں پر سِلے کپڑے ڈال لیے تو کچھ نہیں۔ (ج1، ص 1169، مکتبہ المدینہ) واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
کتبہ محمد کلام الدین نعمانی مصباحی
بنوٹا، مہوتری، نیپال
11/دسمبر 2024ء بروز بدھ

0 تبصرے