السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام کہ کچھ مسلمان اپنے نام کے اگے ہندوؤں کے سر نیم لگاتے ہیں جیسے وسیع مکرم تیاگی شاداب چوہان تو کیا اس طرح سے نام کے اگے ہندوسر نیم لگانا درست ہے، یا نہیں ۔ اور جو لگاتے ہیں ان پر حکم شرع کیا ہے مدلل جواب عنایت فرمائیں ناظم رضا رامپور
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب مسلم کا اپنے نام کے ساتھ کسی غیر مسلم کا نام شامل کرنا جائز نہیں ہے، فورا اس نام کو الگ کرے اس سے توبہ کرے کہ آئندہ ایسا کبھی نہیں کرے گا۔
اور اگر غیر مسلم کا نام اچھا سمجھ کر لگایا ہے تو پھر یہ اشد حرام منجر الی الکفر ہے۔
حدیث پاک میں ہے: "من تشبہ بقوم فھو منھم"۔
یعنی جو کسی قوم سے مشابہت کرےگا وہ ان ہی میں سے ہوگا
(مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد ششم کتاب الباس حدیث نمبر 4347 ص۱۰۵ مکتبہ نعیمی کتب خانہ گجرات)
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار میں ہے”
قسم یختص بالکفار ۔کجرجس وبطرس ویوحنا، فھذا ۔۔۔ لایجوز للمسلمین التسمی بہ لما فیہ من المشابھۃ“
ترجمہ: ناموں کی ایک قسم ایسی ہے جو کافروں کے ساتھ خاص ہے مثلاً جرجس، بطرس اور یوحنا ، لہٰذا اس قسم کے نام مسلمانوں کے لئے رکھنا جائز نہیں ؛ کیونکہ اس میں کافروں سے مشابہت پائی جاتی ہے۔( ج6 ، ص358 ، دار الکتب العلمیۃ ، بیروت)
غیر مسلم کا نام یا سر نیم مسلمانوں کو لگانا جائز نہیں ہے۔
لہذا مسلمانوں کے اوپر لازم ہے کہ اپنا اسلامی نام رکھے اور اپنے نام کے آگے پیچھے کسی بزرگ یا اپنے آبا و اجداد کی نسبت لگائیں، اور کسی غیر کی طرف نسبت کرنے سے بچیں۔ اور اس طرح کے دیگر حرکات سے بھی بچیں، ورنہ بعض صورتوں میں کفر کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
کتبہ محمد کلام الدین نعمانی مصباحی
بنوٹا، مہوتری، نیپال
15/دسمبر 2024ء بروز اتوار

0 تبصرے