السـلام عـلـیکم ورحمة اللہ وبـرکـاتـہ
کیا فرماتے ہی مفتیان کرام اس مسٸلے میں کہ
زید کی بیوی ہندہ نےاپنے ہاتھ میں چاقو یا زہر کی بوتل لیکر اپنے شوہر زید سے دھمکی بھرے انداز میں کہا کہ اگر تم مجھے طلاق نہیں دوگے تو میں خود کشی کر لونگی
اس صورت حال کو دیکھتے ہوۓ زید نے ہندہ کو کہا کہ میں نے تجھے طلاق دیا
دریں صورت ہندہ پر طلاق واقع ہوٸ یا نہیں اور اگر طلاق واقع ہوٸ تو کون سی طلاق ???
بینوا وتوجرو۔
المستفتی ؟؟۔۔۔۔ محمد تحسین رضا چھتیس گڑھ انڈیا
🍂 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🍂
🌷وعلـیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🌷
📚✍️ الجـواب بـعـون الملـک الوہاب
صورت مسئولہ میں ایک طلاق رجعی پڑ چکی ہے کیوں کہ طلاق خوشی سے دے یا مجبوری میں پھر بھی پڑ جاتی ہے۔
✍️ طلاق رجعی کی صورت میں بیوی شوہر کے نکاح میں ہی رہتی ہے، میاں بیوی دونوں ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو تین حیض کے اندر اندر دو گواہوں کی موجودگی میں قول و فعل کے ذریعہ جب چاہے رجعت کر سکتے ہیں۔
اگر عدت کے اندر رجعت نہیں کیا تو بیوی نکاح سے نکل جائے گی، اس کے بعد عورت جہاں چاہے شادی کر سکتی ہے، اور اگر پھر اسی شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے تو دوبارہ نکاح کر کے رہ سکتی ہے
بہار شریعت میں الجوہرۃ النیرۃ کے حوالے سے ہے 👇👇
"اور یہ بھی شرط نہیں کہ خوشی سے طلاق دی جائے، بلکہ اکراہ شرعی کی صورت میں بھی طلاق واقع ہو جائے گی"۔
(جلد 2 صفحہ 112، مکتبۃ المدینہ رجعت کا طریقہ)
رجعت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ👇
کسی لفظ سے رجعت کرے اور رجعت پر دو عادل شخصوں کو گواہ کرے اور عورت کو بھی اس کی خبر کردے۔ اور اگر فعل سے رجعت کی مثلاً اُس سے وطی کی یا شہوت کے ساتھ بوسہ لیا یا اُس کی شرمگاہ کی طرف نظر کی تو رجعت ہو گئی مگر مکروہ ہے۔ اُسے چاہیے کہ پھر گواہوں کے سامنے رجعت کے الفاظ کہے۔
(بہار شریعت جلد 2 صفحہ 171)
💞 والـلـہ اعــلـــم بـالـصــــواب 💞
📚✍️ کـــــــــــــــتــــــــبـــہ 👇
مـــحــــمـد کــــــلام الــــــدیـن نــعــــــمــانــی مــــصـــبــاحــی
بـنــوٹـا، مـہـوتـری، نـــیـپـال
✅ الــجـــواب الـصـــحــــیـح 👇
مـــحــــمـد شــــــرف الــــــدیــن رضـــوی
دارالـعـــــــلـوم قــــادریــــہ حــــبــیــــبہ فـــیــل خــــانــہ ہــــوڑہ بــنــــــگــال
https://chat.whatsapp.com/FTEGecDecS67wuW0JYa2Fk
🥏 شـــمــس الاولـیـاء فـقـہی گــروپ🥏

0 تبصرے