Header Ads Widget

Responsive Advertisement

آرٹیفیشل جیولری کا استعمال

 السلام علیکم ورحمۃ اللہ حضرت کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ عورت بالوں میں کلپ لگا سکتی ہے یا نہیں۔

اگر کوئی عورت اس کلپ کو بالوں میں لگا کر نماز پڑھے تو اس کی نماز ہوگی یا نہیں؟

کچھ حضرات کہتے ہیں کہ صرف کلپ لگا سکتی ہے باقی زیور استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔

تفصیلی جواب عنایت فرمائیں مفتی صاحب قبلہ 

سائل: کشش نیپالی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب

وہ کلپ جس کو عورتیں اپنے بالوں میں لگاتی ہیں اس کا استعمال جائز ہے کہ کلپ خاص زیور نہیں اس کو صرف زینت کے لئے نہیں لگایا جاتا بلکہ اس کا مقصد بالوں کو یکجا کرنا اور یکجا رکھنا ہے، یعنی پھر اسے بالوں میں لگانا لبس یعنی پہننا نہیں ہے اور پہننا ہی ممنوع ہے۔

فتاوی امجدیہ میں ہے:

” سونے چاندی کے بٹن اس وجہ سے جائز ہیں کہ یہ ملبوس نہیں ہیں بلکہ توابع لباس سے ہیں. لہذا دوسری دھات کے بٹن بھی اسی علت مشترکہ سے جائز ہیں کہ دوسری دھاتوں کا پہننا منع ہے بلکہ ان کا حکم سونے چاندی سے اخف ہے کہ سونے چاندی کا استعمال صرف ایک مخصوص صورت کے علاوہ مطلقا ناجائز ہے اور دوسری دھاتیں سوا پہننے کے ہر طرح استعمال کرسکتے ہیں. ان کے برتنوں میں کھا پی سکتے ہیں سرما دانی سلائی تیل وغیرہ کی پیالیاں قلم دوات وغیرہ تمام اشیاء کو استعمال کرسکتے ہیں (ج4، ص233)


اور یہ درست ہے کہ سونے چاندی کے علاوہ دوسری دھاتوں کے زیورات مثلا لوہا، تانبا، پیتل، رانگا، جستہ وغیرہ عورتوں کے لئے بھی ناجائز اور حرام ہے۔

لیکن فی مانہ مفتیان کرام کا فتوی یہی ہے کہ تعامل و عموم بلوٰی کی وجہ سے خواتین کا آرٹیفیشل جیولری (یعنی سونے چاندی کے علاوہ دیگر دھاتوں کا زیور بھی) استعمال کرنا جائز ہے، اور اسے پہن کر نماز پڑھنا بھی جائز ہے۔

   امام اہل سنت سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ایک جگہ لکھتے ہیں:

”بالجملہ بحمداللہ تعالی بدلائل قاطعہ واضح ہوا کہ علمائے کرام جس عرف عام کو فرماتے ہیں کہ قیاس پر قاضی ہے اور نص اس سے متروک نہ ہوگا ،مخصوس ہوسکتاہے وہ یہی عرف حادث شائع ہے کہ بلاد کثیرہ میں بکثرت رائج ہو‘‘۔ (فتاوی رضویہ، ج19، ص606، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)۔واللہ تعالی اعلم بالصواب

کتبہ محمد کلام الدین نعمانی مصباحی

بنوٹا، مہوتری، نیپال

21/جمادی الثانی 1446ھ۔ 23/دسمبر2024ء بروز پیر

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے