نیپال اردو ٹائمز کے قدر دان بنیں
بانئ نیپال اردو ٹائمز، قائد ملت، حضرت مفتی محمد رضا قادری صاحب، ایڈیٹر حضرت مولانا عبد الجبار علیمی صاحب، سب ایڈیٹر حضرت مولانا مفتی محمد کلام الدین نعمانی مصباحی صاحب یہ وہ لوگ ہیں جو تمام مصروفیات کے باوجود مذہب و مسلک کی ترویج واشاعت کے لئے فی سبیل اللہ اخلاص وللہیت کے ساتھ ملت کا کام کر رہے ہیں جبکہ فی زماننا جمود و تعطل اور کاہلی عروج پر ہے۔
الحمد للہ رب العالمین ہمارے قائد مفتی محمد رضا قادری ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے والوں میں سے نہیں ہیں، بلکہ خود میدان عمل میں آگے آگے ہوتے ہیں اس کے بعد آپ کے معتقدین محبین آپ کے دست و بازوں بنتے ہیں، نہ جانے کس وقت آپ آرام کرتے ہیں، بارہ، ایک بجے رات تک مختلف گروپوں میں آن لائن کسی کام میں مصروف دیکھتا ہوں، بعد فجر درس وتدریس کے فرائض سرانجام دیتے ہیں، اسی ہفتے میں دیکھ لیجئے نول پراسی کا عظیم پروگرام ڈیل کر رہے تھے، ادھر نیپال اردو ٹائمز اخبار کا وقت ہورہا تھا، اسی طرح ہندو نیپال کے حالات حاضرہ پر نگاہ رکھنا وغیرہ وغیرہ۔
ہر دور میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں، جو تعارف کے محتاج نہیں ہو تے، اور یہ دو طرح کے ہوتے ہیں ایک یہ کہ جو اپنے اباو اجداد اور نسبت سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ اور دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فضل، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا اور غوث و خواجہ کی عنایت اس عظیم ہستی کے ساتھ ہوتی ہے، اور وہ اپنی کارکردگی علم و فضل سے جانے جاتے ہیں، انہیں میں سے قائد ملت، مؤرخ نیپال، مفسر قرآن حضرت مفتی محمد رضا قادری صاحب قبلہ ہیں جن کے اباو اجداد بھی محتاج تعارف نہیں اور آپ خود اپنی کار کردگی، علم وفضل، خدا داد صلاحیتوں سے ہندو پاک اور نیپال میں جانے پہچانے جاتے ہیں۔
اسی طرح سے مفتی محمد کلام الدین نعمانی صاحب کے لئے استاذ الشعراء حضرت قاری بشیر القادری صاحب کا ہدیہ تبریک دیکھا دل باغ باغ ہوگیا علمائے کرام بھی پڑھے ہوں گے امید قوی ہے کہ محظوظ ہوئے ہوں گے، اور مصروفیات کا اندازہ بھی لگائے ہوں گے، یہ نئے علمائے کرام کے لئے ایک نمونہ اور مشعل راہ ہیں۔
میں اپنے قارئین کرام سے گزارش کروں گا کہ ’’نیپال اردو ٹائمز‘‘ کے قدر دان بنیں اور مطالعہ ضرور کریں، نیز دوسروں کو ترغیب دلائیں اور کم سے کم چار پانچ گروپوں میں نشر کریں اور دعا فرماتے رہیں نیپال اردو ٹائمز ہمارے بیچ میں اسی طرح سے بروقت آتے رہے، گاہ بگاہے اپنی قیمتی تاثرات بھی پیش فرماتے رہے۔
راقم الحروف کے قلم میں اثر نہیں، زبان میں تاثیر نہیں، پیغام مؤثر نہیں، پھر بھی یوسف کی خریداری کرنے والی ضعیفہ کی سنت ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔
محمد زاہد رضا منظری نقشبندی
سرپلو مہو تری نیپال


0 تبصرے