Header Ads Widget

Responsive Advertisement

نیپال اردو ٹائمز Nepal Urdu Times epaper नेपाल उर्दू टाइम्स

 نیپال میں سیلاب سے مچی بڑی تباہی ،ہزاروں مکانات سیلاب کی زد میں 




  • کاٹھمانڈو(ایجنسی)  نیپال میں بارش کی وجہ سے آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ (پہاڑی تودے اور چٹان کے کھسکنے  اور گرنے  کےسبب) سے اتوار کو مرنے والوں کی تعداد  170 ہو گئی ہے۔ نیپالی پولیس  افسران نے یہ اطلاع دی کہ جمعہ کے بعد سے، مشرقی اور وسطی نیپال کے بڑے حصے زیر آب آگئے ہیں اور ملک کے کئی حصوں میں اچانک سیلاب آنے سے بھاری تباہی ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق کاٹھمانڈو وادی میں بارش  کے سبب  آنے والے سیلاب سے اب تک 43 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ مسلح پولیس فورسز کے ذرائع کے مطابق سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور پانی جمع ہونے سے تقریبا ایک سو سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں، جب کہ 3000 سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے قومی شاہراہیں ہفتہ بھر سے بند ہیں اور ہزاروں لوگ مختلف شاہراہوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔ کم از کم 322 مکانات اور 17 پلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ جس میں میچی سے مہاکالی تک پلز شامل ہیں۔نیپال کی قومی سڑک جو کاکڑ بھٹا سے کاٹھمانڈو تک جاتی ہے، اس راستے کے پہاڑی علاقوں میں درجنوں مقامات پر روڈ ٹوٹ جانے اور پہاڑی تودوں کے گر جانے کی وجہ سے بند ہوچکے ہیں، جس میں سیکڑوں مسافر بسیں اور سامان سے لدے ٹرکز اب تک پھنسے ہوئے ہیں اور کئی بسیں پانی کے بہاؤ کے  ساتھ بہہ گئی  ہیں۔
  • مختلف ذرائع کے مطابق لوگوں کو بچانے کے لیے 20 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریبا 4000 سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن  جاری ہے۔ جس میں ایک درجن سے زائد سرکاری ہیلی کاپٹر شامل ہیں جو سیلاب میں پھنسے افراد کو نکال رہے ہیں۔ وزارت داخلہ کے ترجمان رشی رام تیواری نے کہا کہ لینڈ سلائیڈنگ سے تباہ ہونے والی شاہراہوں کو کھولنے کی تمام کوششیں جاری ہیں۔ جن میں کچھ کو کھول دیا گیا ہے ۔عینی شاہدین نے بتایا کہ انہوں نے کاٹھمانڈو وادی میں اس سے قبل اتنا پانی جمع ہوتے  نہیں دیکھا۔ پیمائش کرنے والی ٹیم نے 12.7 ملی لیٹر بارش ریکارڈ کیا ہے ، مسلح پولیس فورس نے ایک بیان میں کہا کہ مرنے والوں کی تعداد 170 تک پہنچ گئی ہے۔ کاٹھمانڈو کے قریب دھادنگ ضلع میں ہفتے کے روز ایک بس کے لینڈ سلائیڈنگ کی چپیٹ میں آنے سے کم از کم 19افراد ہلاک ،سلائیڈنگ سے پانچ افراد کی موت ہو گئی۔۔مکوان پور میں 'آل انڈیا نیپال ایسوسی ایشن' کے زیر انتظام تربیتی مرکز میں لینڈ سلائیڈنگ کے حادثے میں چھ فٹبال کھلاڑی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، اور دیگر سیلابی پانی میں بہہ گئے۔ منگل تک بارش جاری رہنے کی پیش گوئی کے باوجود اتوار کو کچھ   کچھ راحت ملی۔ انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ (ICIMOD) کے موسمیاتی اور ماحولیات کے ماہر ارون بھکت شریستھا نے کہا، میں نے کاٹھمانڈو میں اس سے پہلے کبھی اتنی شدت کا سیلاب نہیں دیکھا۔ جس نےچالیس سالہ ریکارڈ توڑ دیا، ہفتہ کو آئی سی ایم او ڈی کی طرف سے شائع ہونے والی ایک وپرٹ میں کہا گیا ہے کہ کاٹھمنڈو کا  مرکزی دریا باگمتی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہا ہے،  جمعہ اور ہفتہ کو مشرقی اور وسطی نیپال میں شدید بارش کے سبب پانی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہا ہے۔ اس میں کہا گیا کہ خلیج بنگال پر کم دباؤ کی صورتحال اور مانسون کے آغاز کے نتیجے میں ہفتہ کو غیر معمولی طور پر شدید بارش ہوئی ہے۔
  •  نیپال کی سب سے بڑی ندی کوشی ندی جہاں کوشی بیرج پل موجود ہے، جس میں 56 دروازے ہیںشدید بارش کی وجہ سے پہلی بار تمام دروازوں کو کھول دیا  گیا ہے، مگر اس کے باوجود یہ دیکھا گیا کہ  پہلی بار پانی  کوشی بیرج پل کے اوپر سے  بہہ رہا تھا۔اس بار کوشی میں آنے والے  سیلاب اور طوفان باراں نے  ۱۹۶۸ کے ریکارڈ کو بھی توڑ دیا ہے۔
  • سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پورے ایشیا میں بارش کی مقدار اور وقت تبدیل ہو رہے ہیں۔ نیپال کے کئی علاقوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے۔ کئی شاہراہیں اور سڑکیں بند ہیں، سینکڑوں گھر اور پل بہہ گئے ہیں اور سینکڑوں خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔ سڑک بلاک ہونے کی وجہ سے ہزاروں مسافر مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے ہیں۔
  • میڈیا ریپورٹ کے مطابق نیپال میں آئے موجودہ سیلاب کی وجہ سے جہاں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے اور سیکڑوں کی تعداد میں زخمی اور لاپتہ ہوئے،  وہیں 40 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں ،
  • نیپال کے کئی ڈومیسٹک ایئر پورٹ کے رن وے پر پانی آجانے کی وجہ سے پروازیں رد ہوگئیں ، نیپال کے اس مشکل حالات میں پاکستان کے وزیر اعظم جناب شہباز شریف نے افسوس ظاہر کیا اور فوری امداد فراہم کرنے کی یقین دہائی کی۔
  • رپوٹر: بلال برکاتی نیپالی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے