دونوں عالم میں اجالاہےرخِ ضُوبار کا
پا رہا ہے ہرکوئی صدقہ مرےسرکار کا
فلسفہ معراج کاہےسورۂ "والنجم" میں
کتنا اعلیٰ مرتبہ ہے شاہ کی رفتار کا
مژدۂ"من زار قبری"کی سند اُس کوملی
دیکھ آیاجوبھی روضہ سیدِابرار کا
دلکشی حسنِ مدینہ میں ہےایسی دیکھ کر
رنگ ہےاترا ہوا فرودس کےرخسارکا
جن وانساں،پیٹرپودے،چاندوسورج رات دن
سارے صدقہ پا رہے ہیں احمدِ مختار کا
ہےفدائی ان کے صدیق وعمر، عثماں، علی
چار سو شہرہ ہےدیکھو دوستو! اِن چارکا
خنجرِ خونخوار ہے احمد رضا خاں کا قلم
تاب نجدی لا نہیں سکتے ہیں ان کے وار کا
"خیرامّت"کا شرف ہم کو بفضلِ رب
ملا
ہےکرم بےشک یہ ہم پراحمدِ مختار کا
حسرتِ دل پوری کر دے یا خدا تو کنزؔ کی
دیکھ لےیہ جا کے جلوہ شاہ کے دربار کا
مولانا محمدنعیم
الدین قادری کنزمصلحی
قصبۃالعلماگلاب
پورکٹیاضلع مہوتری نیپال

0 تبصرے