آج ہندوستان کے اکثر شہروں اور اضلاع میں
دیکھا جاتا ہے، اور یہ بات اخبار میں بھی آئے دن پڑھنے کو ملتی ہے کہ مسلم لڑکیاں
اسلام سے پھر کر ہندو دھرم کو اپنا رہی ہیں،سوشل میڈیا کے ذریعہ بھی دل دکھادینے
والی خبریں پڑھنے ،دیکھنے اور سننے کو ملتی ہیں ۔ اور اب یہ وبا ملک نیپال میں بھی
تیزی سے پھیل رہی ہے۔ بلا شبہ یہ بہت ہی افسوسناک ، دل دہلادینے والا حادثہ اور
بہت بڑا فتنہ ہے ، ہمیں اس بارے میں سوچنے اور اسے روکنے کے لئے کچھ مضبوط تدبیریں
اختیار کرنی ہوں گی۔جو لڑکیاں کسی بھی لالچ میں یا لڑکے ہوس و حرص کی جال میں پھنس
کریہ قدم اٹھا رہے ہیں اس میں ان کا اپناسب سے زیادہ نقصان ہے کہ دین حق سے
پھرجانا یہ کوئی معمولی جرم و گناہ نہیں بلکہ ذلت و رسوائی کا باعث اور جہنم کی
دہکتی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جلنے کا سبب ہے۔یہ تو اپنا اپنا مقدر ہے کہ کسی
کو ایمان کی دولت اور اس پر استقامت نصیب ہوتی ہے اور وہ دینی و دنیاوی سعادتوں سے بہرہ ور ہوتا ہے، اور کسی کو کفر و
ارتداد کی تاریک دینا اور جہنم کی ہولناک وادیاں، جن میں انہیں ہمیشہ رہنا ہے۔مسلم
لڑکے اور لڑکیوں کے ذمہ داروں کو بھی اس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔
یہ توآج ہم دیکھ رہے ہیں اور ذہنی طور پر
پریشان ہیں کہ کچھ لوگ دنیا کے بدلے میں اپنے ایمان کا سودا کر رہے ہیں، کہیں
سیاسی لیڈران، تو کہیں عہدہ کے بھوکے اور کہیں نفس و خواہش کے غلام۔مگر غیب داں نبی ﷺ نے چودہ سو سال پہلے اپنی زبان
فیض ترجمان سے اس کی پیشن گوئی فرمادی ہے ۔اس بارے میں کچھ عرض کرنے سے قبل
ایک حدیث پاک پیش ہے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله
صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا:
بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتناً كَقِطَعِ
اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا
وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا يَبِيعُ دِينَهُ بِعرْض من الدُّنْيَا۔
(مشکوٰ حدیث نمبر۵۳۸۳،مسلم شریف حدیث نمبر۱۱۸)
ترجمہ:ان فتنوں
سے پہلے اعمال کرلو جو اندھیری رات کے حصوں کی طرح ہوں گے کہ انسان صبح کرے گا
مؤمن ہوکر اور شام کریگا کافر ہوکر،اور شام کرے گا مؤمن ہوکر صبح کافر ہوکر اس
طرح کہ دنیاوی سامان کے عوض اپنے دین کا سودا کر بیٹھے گا ۔یعنی اس موقعہ امن و
امان کو غنیمت جانو جو نیکی کرنا ہے کرلو ورنہ ایسے فتنے اٹھنے والے ہیں اور ایسی
بلائیں آنے والی ہیں کہ انسان کو کچھ نہ سوجھے گا کہ میں کیا کروں،دلوں کے حالات
بہت جلد بدل جائیں گے۔(ایک وقت آئے گاکہ آدمی) معمولی دنیاوی لالچ میں اپنا دین
چھوڑ دے گا،اس زمانہ کے علما رشوت لےکر غلط فتوے دیں گے،حکام رشوتیں لے کر غلط
فیصلے کریں گے، عوام پیسہ لے کر جھوٹی گواہی بلکہ شراب خوری،قتل تک کردیں گے یہ تو
اب دیکھا جارہا ہے۔ (مرآت المناجیح)
اس حدیث پاک میں جو فرمایا گیا ہے اس کے پیش
نظر موجودہ وقت کا جائزہ لیا جائے توجو حالات بعض مسلمان مرد و عورت اور نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے ہیں وہ
حدیث پاک کی پیشن گوئی کے مطابق ہیں، جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے۔ بہت سے لوگ
دیناوی غرض و مفادات اور حرص و ہوس کے چکر و جال میں پھنس کر ، ایمانی کمزوری کی بنا پر اپنے ایمان سے ہاتھ
دھو بیٹھتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ اس کے نقصانات دنیا و آخرت میں کیا
ہیں۔ایسے لوگ کسی کا آلہ کار بن کر،کسی عہدہ و منصب کی امید پر کفر و ارتداد کی
راہ تو اختیار کرلیتے ہیں مگر جن ذہنوں کے ورغلانے پر ایسا کیا گیا ہے ان کی طرف
سے جلد ہی دھوکہ کا تمغہ بھی دیدیا جاتا ہے ، منصب و عہدہ سے بھی ہاتھ دھوبیٹھتے
ہیں اور ذلت و رسوائی کے ساتھ مسلم سماج کی نظروں میں بھی ذلیل ہوجاتےہیں اور
آخرت بھی بھیانک ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔جاری۔۔۔۔۔

0 تبصرے