Header Ads Widget

Responsive Advertisement

دارالحکومت کاٹھمانڈوسیلاب سے دوچار

 



  • (کاٹھمانڈو ایجنسی) نیپال میں گزشتہ دو دنوں سے جاری بارش کی وجہ سے اب تک 150 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے سو سے زائد افراد لاپتہ بتائے جارہے  ہیں۔ سب سے زیادہ تباہی دارالحکومت کاٹھمنڈو اور آس پاس کے علاقوں میں دیکھی جا رہی ہے۔ کاٹھمنڈو کا بیشتر حصہ زیر آب ہے۔ جان و مال کا سب سے زیادہ نقصان یہاں دیکھا گیا ہے۔ کاٹھمنڈو کا دیگر آس پاس کے اضلاع سے سڑک رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ مسلسل بارش کے باعث کاٹھمنڈو سمیت ملک بھر کے ہوائی اڈے بند کر دیے گئے ہیں۔ بارش کے باعث بجلی کے کھمبے گرنے سے بجلی کی فراہمی منقطع ہے اور انٹرنیٹ سروس بھی درہم برہم ہے۔ نیپال میں 323 ملی میٹر ریکارڈ بارش کی وجہ  سے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 100 لوگوں کی موت ہو گئی ہے۔ اب تک 100 سے زائد افراد کے لاپتہ ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ سیلاب کی وجہ سے سینکڑوں لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع وزارت داخلہ کی طرف سے دی گئی ہے۔
  • پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ملک کی 48 شاہراہیں مکمل طور پر بند ہو گئی ہیں۔ کاٹھمنڈو کو ملانے والی تمام شاہراہیں اور دیگر سڑکیں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند ہیں۔ ملک کے کئی اضلاع کا کاٹھمنڈو سے کسی بھی ذریعے سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ جمعہ کی شام سے ہی کئی مسافر بسیں مختلف مقامات پر پھنسی ہوئی ہیں۔ کچھ مسافر بسیں لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آنے سے مسافروں کی جان گئی ہے۔ ہفتہ کی شام ایسی دو  بسوں کا پتہ چلنے کے بعد ان سے 14 لاشیں برآمد کی گئیں۔
  • مسلسل بارش کے باعث ملک بھر کے ہوائی اڈے بند کر دیے گئے ہیں۔ کاٹھمنڈو ایئرپورٹ سے اندرونی پروازوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ خراب موسم اور کم بصارت کی وجہ سے ہفتہ کو زیادہ تر بین الاقوامی ایئر لائنز کو بھارت کی طرف ڈائیورٹ کیا گیا تھا۔ گورکھا سے دو روز قبل کاٹھمنڈو کے لیے روانہ ہونے والی دونوں بسوں کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلسل بارش اور سیلاب کے باعث ملک بھر میں 15 بڑے پل گر گئے ہیں۔ ان میں نیپال اور چین کو ملانے والے دو بیلی برج بھی شامل ہیں۔از قلم: سراقہ رضوی

 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے