Header Ads Widget

Responsive Advertisement

علمائے نیپال اور مدارس اسلامیہ قسط دوم

 🇳🇵🇳🇵🇳🇵🇳🇵🇳🇵🇳🇵🇳🇵🇳🇵🇳🇵🇳🇵🇳🇵🇳🇵

*علمائے نیپال اور مدارس اسلامیہ نیپال*

*======= قسط دوم =======*


*از قلم: شھاب الدین حنفی نیپال*


سب سے پہلے ہزارہا شکر ہے اس ذات باری تعالیٰ کا جس کے ہاتھوں میں ذلت اور عزت ہے, جسے چاہتا ہے بلند کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے رسوا کردیتا ہے اسی کے اختیار اور قدرت میں ہے سب کچھ، اسی کی توفیق سے بندہ عمل صالح کرتا ہے خواہ وہ عمل تحریری ہو تقریری ہو یا تعمیری ہو جس بھی شکل میں عمل خیر ہو بلاشبہ وہ عطائے الہیہ ہی ہے۔ شکر ہے اسی رب کا جس کی توفیق سے بندہ عاصی وقتا فوقتاً کچھ تحریری کام کرلیتا ہے، کثیر مصروفیات اور کار بسیار کے باوجود وقتا فوقتاً میرے ناقص علم اور قلم سے کچھ باتیں قوم وملت کیلے معرض وجود میں آجاتی ہیں، جس کو پڑھ کر ہمارے احباب مجھ ناچیز سراپا تقصیر کو اپنی دعاؤں سے نوازتے ہیں، حوصلہ بڑھاتے ہیں، جہاں نقاد کی بھیڑ میں انسان ہمت ہار جاتا ہے وہی اپنے ان تمام محبین مخلصین کی داد وتحسین اور دعاؤں سے مزید ہمت بڑھ جاتی ہے۔

 کل مورخہ 15 اگست 2023 کو فقیر نے اپنے محسن اپنے عظیم رہنماؤں کا ذکر خیر کیا جن کے احسان تلے میں میری آنے والی نسلیں دبی رہے گی، ان اکابر واعاظم علماء ومشائخ کا ذکر جمیل کیا جن کی بدولت آج نیپال میں شجر اسلام ہرا بھرا اور لہلہا رہاہے جن کے خون جگر سے سنیچے گیے باغات سے آج ہم اور کل ہماری نسلیں پھل کھائیں گی، جی محترم وہ پھل کوئ دنیاوی پھل نہیں وہ علمی پھل ہے جو دنیاوی پھلوں سے ہزار گونہ میٹھا ہے بس اس پھل کو حاصل کرنے کیلے تڑپ اور تمنا چاہیے اور یہ تڑپ اور یہ تمنا یہ آرزوئیں  اسی وقت پوری ہوں گی جب آپ کسی ماہر استاد کی بارگاہ میں زانوئے تلمذ تہہ کریں گے۔

بحمدہ تعالیٰ ہمارے ملک نیپال میں ہزاروں ایسے ماہر اساتذہ علماء فقہاء ادبا نقباء خطبا ائمہ شعرا سب موجود ہیں اور یہ تسلسل جاری وساری ہے کل میں نے ان میں سے چند اشخاص کا ذکر کیا انکی محنتوں اور کاوشوں کو مختصرا شمار کروایا تھا جس کو پڑھنے کے بعد ہمارے علماء ہمارے محبین  ومخلصین نے راقم السطور کو اپنی دعاؤں سے خوب نوازا زبردست تبصرے تحریر فرمایے اور خوب حوصلہ افزائی کی۔ رب متعال ان سب کو جزائے خیر عطا فرماے آمین 

ساتھ ہی بعض احباب شاکی ہوئے انھوں نے محبت بھرے لہجوں میں شکایت کی حنفی صاحب آپ نے بعض بزرگوں کا نام کام شمار کرایا ہے بعض کو چھوڑ دیا نظر انداز کردیا یہ تو مناسب بات نہیں ہوئی  خیر میرے ان احباب کو یہ علم تو تھا نہیں کہ میں دوسرے قسط میں ان کا ذکر کروں گا جن کا چھوٹ گیا، ساتھ ہی عرض کردوں کہ ہمارا نیپال کوئی چوٹھا ملک تو ہے نہیں دنیا کے کئی ملکوں سے بڑا ہے اور الحمد لله ثم الحمدللہ آپ جس سمت چلیں جائیں نیپال کے جس گوشے میں چلیں جائیں کچھ علاقوں کو چھوڑ کر آپ کو اسلام وسنیت کی بہاریں نظر آئیں گی  اور ظاہر سی بات ہے اگر پورے نیپال کے علماء ومشائخ کی دینی خدمات کو سپرد قلم و قرطاس کیا جائے تو اس کے لیے ایک ضخیم کتاب تیار ہوجائےگی، کافی وقت لگے گا اور میں پہلی قسط میں عرض بھی کرچکا ہوں قلت وقت دامن گیر ہونے کی وجہ سے اور تحریر کی طوالت کی وجہ سے مختصرا اپنے ان محسنین کا ذکر کیا ہوں جن کو میں نے جانا ہے دیکھا ہے جن کا تعلق ہمارے دیار وامصار سے ہے ان میں بعض وہ ہیں جن کی صبح وشام کو دیکھنے کا موقعہ ملا بعض وہ ہیں جن کی زیارت سے مشرف ہوا۔

 اور اب جن بزرگوں کا ذکر جمیل کرنے جارہا ہوں نہ ان کو دیکھا نہ سنا  بس ان کی دینی خدمات کو جو مورخین نے بیان کیا ہے اس کی روشنی میں اختصار کے ساتھ بیان کرتے ہوئے گزرنا ہے۔

 ان چند تمہیدی گفتگو کے بعد اصل موضوع کی طرف آرہاہوں رب کریم اپنے فضل وتوفیق سے حق اور سچ لکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

 نیپال کا وہ علاقہ جہاں ہم ہیں جس علاقے سے ہمارا تعلق ہے یقینا ایک زمانہ ایسا بھی گزرا ہیکہ کوئی فاتحہ کرنے والا نہ تھا نہ میلاد پڑھنے والا، مورخین نے لکھا ہے کہ لوگ چھری پر بسم اللہ اللہ اکبر پڑھوا کر لیے جاتے اور اسی سے کئی کئی جانور ذبح کرتے اس قدر جہالت اور ظلم و تاریکی سے یہ علاقہ ظلمت کدہ بناہوا تھا، پھر اللہ نے اپنے کرم سے اپنے نبئ مکرم کے وسیلے سے اس دیار کو اولیاء ثلاثہ کی شکل میں تین بزرگوں کا انعام عطا فرمایا جن کا مزار مبارک مرجع خواص عوام ہے جو روضہ گڑھی ادھیانپور مہوتری سے مشہور ہے، آپ کی آمد سے یہ علاقہ اسلام کے روشن چراغ سے منور ہوا کلمہ توحید ورسالت کی صدا گونجی  بہت سارے کفار ومشرکین حلقہ بگوش اسلام ہوئے، افسوس کہ ان تین بزرگوں کی سیرت پر اس زمانے میں کوئ خاص کام نہ ہوسکا نہ ان کے حوالے سے کوئی خاص تحقیق ہوئی بہت بعد میں چل کر ہمارے بعض علماء نے ان پر تحقیقی کام کیا جس میں سر فہرست مورخ نیپال حضرت علامہ مفتی محمد رضا قادری نے اپنی مشہور زمانہ کتاب "نیپال میں اسلام کی تاریخ" میں ان کا مختصر ا مگر جامع ذکر کیا ہے بعدہ مورخ نیپال حضرت علامہ مولانا صفی اللہ قادری صاحب گلابپوری  نے کچھ تفصیل کے ساتھ اولیاء ثلاثہ کے نام سے کتاب لکھ کر امت مسلمہ نیپال کو دی  ہے ان مقدس ہستیوں کا تذکرہ آپ پڑھنا چاہتے ہیں تو ان دونوں کتاب سے استفادہ فرمائیں۔

زمانہ بدلتا گیا حالات بدلتے گئے  دنیا کے نشیب و فراز میں تغیر ہوتا رہا پھر ایک بار یہ علاقہ کفر و شرک، گمرہی وبدعات کا شکار ہوا حالات بد سے بدتر بنتے چلے گئے دین سے دوری ہوتی چلی گئی، چونکہ اس ملک میں مشرکین کی تعداد شروع سے ہی زیادہ ہے، مسلمان اپنے مذہبی تشخص کو بھلا کر کفار و مشرکین کے طور طریقے کو اپنانے لگے بس نام مسلمان اور کام غیر مسلموں جیسے کرنے جیسے گھروں میں مورتیاں رکھنا ملبوسات میں ساڑی دھوتی اور غیر معبود کی منت ماننا وغیرہ وغیرہ،  جہالت اس قدر تھی کہ نماز روزے کے مسائل سے ناواقفیت مدارس اسلامیہ کا دور دور تک نام ونشان نہیں، پھر باران رحمت کا نزول ہوا رحمت خداوندی کا جوش کرم مچلا اور اسی دیار کے دو نوجوان نے حصول علم کیلے ہندوستان کا سفر کیا جن میں ایک شخصیت کو دنیا حنیف ملت جبکہ دوسری شخصیت کو زاہد ملت کہتی ہے۔

 آپ دونوں اپنے وقت کے  جید عالم ربانی بے مثال مفتی اور متقی تھے، جب آپ فارغ التحصیل ہوکر اپنے دیار میں تشریف لائے جہاں پر ظلمت وتاریکی وجہالت کی چادر تن چکی تھی آپ نے مسلمانوں کے احوال کو ملاحظہ کیا اور محسوس کیا کہ اس دیار میں اسلام وسنیت مسلک اعلی حضرت کے علم کو لہرانے کیلے کچھ نہ کچھ کرنا چاہئے، پھر ان دونوں بزرگوں نے اپنے اپنے طور پر کام کرنا شروع کیا اول الذکر شخصیت حضور حنیف ملت نے اپنا دائمی مسکن علم وعرفان کا تاج محل اپنے گاؤں سے کچھ فاصلے پر سسوا کٹیا جو اب گلابپور سے مشہور ہے  آپ نے وہاں پر ایک بہترین ادارہ بنام مدرسہ مظہر العلوم قائم فرمایا، اس ادارے کی ترقی کیلے آپ نے کبھی پیدل کبھی بیل گاڑی پر سفر کیا اور علاقے میں جا جا کر  اسلام وسنیت کی تبلیغ کی اور اس گلشن کو زندگی بھر سنیچتے رہے، اسی گلشن کے کئی پھول آج آپ کو مصلح ملت، امام خطابت، شیر بلیا، قاضی شہر جنکپور ومحدث خیریہ کی شکل میں نظر آتے ہیں بڑے اجلہ علماء وفقہاء کو پیدا کیا، انہیں میں ایک بڑا نام شان نیپال ادیب نیپال جن کی تحریر سے دنیائے اردو نے جانا کہ کوئی نیپال میں بھی ادیب ہیں میری مراد شیخ طریقت رہبر راہ شریعت مرشد برحق عالم ربانی حضرت علامہ مفتی مصلح الدین قاری گلابپوری مصنف شان خطابت  وجان خطابت ہیں، اسی طرح حضرت علامہ مولانا امام الخطباء محمد امام الدین قادری برہانی وحضرت علامہ مولانا محمد الیاس نوری سکندر پوری سے مشہور ہیں، حضرت علامہ مولانا اسرائیل فیضی صاحب محدث خیریہ، حضرت علامہ مولانا علاء الدین قادری قاضی شہر جنکپور، ادیب لبیب حضرت علامہ مولانا صفی اللہ قادری، یہ تمام علم و حکمت کے بے تاج بادشاہ اسی گلشن کے پروردہ ہیں جس کو مدرسہ مظہر العلوم کہتے ہیں۔

 اس طرح مدارس اسلامیہ نیپال نے ہمیں ایسے ایسے جوہر عطا کیے ہیں جن کی سیرت پر اگر کام ہو تو ہر ایک کیلے ایک ضخیم کتاب بن جائے۔

آخر الذکر شخصیت حضرت زاہد ملت آپ نے اپنے ہی گاؤں علی پٹی میں چند مسلمانوں کے ساتھ مل کر ادارہ قائم کیا جس کا موجودہ نام دارالعلوم قادریہ مصباح المسلمین ہے آپ نے بھی اس ادارے کی ترقی کیلے دل وجان سے محنت کی تبلیغ دین کیلے گھر گھر جاکر مسلمانوں کو سمجھایا بہت سارے گھروں سے آپ نے غیر شرعی رسوم وخرافات کو ختم کیا۔ آپ اپنے وقت کے جید اور جلیل القدر عالم دین تھے صاحب زہد وتقوی تھے تہجد گزار تھے دن بھر درس وتدریس اورشب کو شب بیداری فرماتے، آپ نے جس گلشن کو خون پسینہ سے سینچا اسی گلشن کے پروردہ ہمارے ملک کے عظیم نامور شخصیت وفقیہ حضور شیر نیپال تھے، آپ ہی کے ریزہ خور میں فخر نیپال بھی ہیں اور محدث اعظم نیپال علامہ مفتی حافظ بخاری مفتی کلیم الدین رضوی تھے، آپ ہی کے فیضان نظر سے پیدا ہونے والے عظیم فقیہ مفتی عثمان رضوی علیہ الرحمہ تھے اور آپ ہی کے فیضان نظر سے پروان چڑھنے والا  آج کا مناظر اعظم اور مفتی اعظم مراد آباد حضرت علامہ مفتی عبدالمنان کلیمی ہیں، جو اس وقت امین شریعت چہارم اداریہ شرعیہ پٹنہ کے مسند پر متمکن ہیں، اس طرح ہمارے ان دونوں بزرگ نے اپنی محنت شاقہ سے اس دیار میں ایک سے بڑھ کر ایک فقہاء فضلاء علماء محدث مفکر مقرر کو پیدا کیا جن سے اس دیار میں ایک عظیم انقلاب پیدا ہوا اور ہمارے ان محسنین نے اپنے اپنے طور پر مسلک اعلی حضرت کا وہ عظیم قلعہ قائم کیا جس کو دیکھ کر آنکھیں خیرہ ہوجاتی ہیں۔

اس لیے میرے عزیزو پیاروں دوستوں نوجوان علماء آپ سب فخر کریں کہ ہمارے نیپال میں وہ کیا ہے جو نہیں ہیں،  سب کچھ ہے بس ہم سب کو آپس میں اختلاف و شرور ونفور سے بچ کر آگے قدم بڑھانا ہے ادارے کو مضبوط کرنا ہے تعلیمی میدان میں پیش قدمی کرنا ہے۔

 تحریر کی طوالت اور آنکھیں بھی اب جواب دے رہی ہیں کہ بس کر بقیہ کل پر چھوڑ ڈھائی گھنٹے سے زائد ہوگیے مگر ابھی بھی بات مکمل نہ ہوسکی ان شاءاللہ تیسری قسط کا انتظار فرمائیں ۔۔۔۔جاری 

15-8-2023

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے