Header Ads Widget

Responsive Advertisement

علمائے نیپال اور مدارس اسلامیہ

 



🇳🇵🇳🇵🇳🇵🇳🇵🇳🇵🇳🇵🇳🇵🇳🇵🇳🇵🇳🇵🇳🇵🇳🇵

*علمائے نیپال اور مدراس اسلامیہ نیپال*


*از قلم:۔ شھاب الدین حنفی، نیپال* 


فروغ دین وملت ،مذہب و مسلک میں اوائل سے ہی علمائے نیپال کا کردار فقید المثال رہاہے، ہمارے بعض نادان احباب اپنے ملک کے علمائے کرام پر بیجا تنقید کر کے ان کی شخصیت کو مجروح کرتے ہیں۔

 آپ نے کبھی سوچا کہ ہندوستان کی طرح نیپال نہیں ہے، ہندوستان ایک بہت بڑا ملک ہونے کے ساتھ ساتھ کثیر مسلم آبادی والا ملک ہے، جبکہ نیپال میں غیر مسلموں کی کثرت اور مسلمانوں کی قلت کس قدر ہے وہ جگ ظاہر ہے۔ پھر نیپال اور ہندوستان میں معاشی حالات، وسائل وساطت کا بھی بڑا فرق ہے۔ ہندوستان میں ہزاروں شہر آباد ہیں جہاں مسلمانوں کی کثرت ہے، جبکہ ہمارے نیپال میں کوئی ایسا شہر نہیں ہے جس میں مسلم اکثریت میں ہوں، اور ان تک پہونچ جانا بھی آسان ہو۔

ایسے حالات میں اگر ہمارے اکابرین علماء خواہ وہ شیر نیپال ہوں یا فخر نیپال ہوں یا حضور حنیف ملت ہوں یا اشرف العلماء ہوں یا قاضی نیپال ہوں، کن کن مصائب اور مسائل سے دوچار ہوکر ہمارے لیے ادارہ بنائے کبھی آپ نے سوچا ؟

کتنی قربانیوں سے یہ چند ادارے جو اپنے وقت کا اشرفیہ، امجدیہ، علیمیہ، فیض الرسول سے کم نہ تھے، آپ نے محسوس کیا؟ جن اداروں کا نام لیا گیا ہے ان کے بانیان کوئی پیر گھرانے سے تعلق نہیں رکھتے تھے کہ مریدوں کا پیسہ آرہا ہے اور ادارہ کا کام ہورہا ہے، یہاں تو ایک ایک روپیہ جمع کرکے ہمارے لیے ہمارے اکابرین نے ادارہ کھڑا کردیا۔ کیا یہ ان کی قربانی نہیں ہے؟

کبھی آپ نے غور کیا کہ جامعہ حنفیہ غوثیہ جنکپور جو جانکی مندر کے عقب میں ہے، جو ہندؤں کا پوتر دھام ہے اس مندر کے پیچھے یہ ادارہ کیسے قائم ہوگیا؟ اتنی بڑی مسجد کیسے کھڑی ہوگئ ؟

عزیزوں اس کام کیلے حضور شیر نیپال نے اور اراکین نے اپنی جان کی بازی لگادی تھی تب جاکر یہ عظیم الشان اسلام کا قلعہ آج آپ اور ہم دیکھ رہے ہیں۔

کبھی یہاں پر بھی فضیلت تک ہمارے ملک کے طلبہ پڑھا کرتے تھے، مگر افسوس کہ آپسی انتشار وافتراق  نے جامعہ کو بہت نقصان پہونچایا۔

اسی طرح شہر جنکپور کا دوسرا ادارہ فیضان مدینہ یا برکاتیہ حنفیہ و گلشن اجمیری یہ تمام ادارے قوم وملت کے ایک ایک روپیے کے چندے سے بنا کسی بھی مہتمم کا نہ تو عالمی طور پر کسی سے ربط تھا نہ کہیں عالمی طور پر ان کی شہرت تھی، ہاں بہت بعد میں چل کر حضور شیر نیپال نے پیری مریدی کا سلسلہ شروع فرمایا مگر اس کو انھوں نے تجارت کے طور پر استعمال نہیں فرمایا یہی وجہ ہیکہ ایک زمانے میں ہندوستان کے کئ صوبہ کے طلبہ یہاں زیر تعلیم ہوا کرتے تھے۔

 دوسری طرف علی پٹی جہاں پر حضور فخر نیپال مدظلہ العالی نے علمی گلشن سجایا جبکہ یہ گاؤں بالکل دہی علاقہ ہے پھر بھی ایک زمانے میں طلبہ کی کثرت ہوا کرتی تھی اور ابھی بھی ہے، میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے حضور فخر نیپال کڑاکے کی ٹھنڈی میں میرے گاؤں سائیکل سے آتے تھے اور گھر گھر جاکر دھان وصولی فرماتے تھے، بعد میں طلبہ آ کر سائیکل سے دھان لے جاتے تھے۔

یہی حال دارلعلوم قادریہ رشیدیہ جلیشور کا تھا حضور اشرف العلماء سائیکل سے چل چل کر وصولی فرماتے تھے۔

اور یہی حال مدرسہ مظہر العلوم کٹیا کا بھی جس کو حضور حنیف ملت نے بڑی محنتوں سے پروان چڑھایا ہے۔

آج زمانہ بدل گیا آج سائیکل کی جگہ موٹر سائیکل آگئی ہے گھنٹوں کا سفر منٹوں میں ہونے لگا ہے، اس پر مزید سوشل میڈیا کا سہارا لیا جانے لگا ہے، اب چندہ کرنا قدرے آسان ہوچکا ہے، کئی مدارس کیلے گروپ بناکر چندہ کیا جاتا ہے محصل گھر بیٹھ کر ہی ہزاروں روپیہ چندہ کرلیتے ہیں۔

غور کریں پچھلے چند سالوں میں کس قدر دشوار تھا چندہ کرنا، ایسے پر آشوب ماحول میں شہر شہر نگر نگر ڈگر ڈگر جاکر چندہ کر کے انھوں نے ہم جیسے آپ جیسے کم علموں کو اس لائق بنایا کہ آج ہم اور آپ کچھ لکھنے پڑھنے کے قابل بن گئے، اور مزید تشنگی بجھانے کیلے ہندوستان کے دیگر مدراس کا سفر کیا۔

 مگر آپ غور کریں اور سوچیں آپ کو کس نے اس قابل بنایا ہیکہ آپ ان بڑے مدراس کے قابل ہوئے جہاں سے آپ فارغ ہونے کے بعد مصباحی لکھواتے ہیں، امجدی لکھواتے ہیں، علیمی اور فیضی لکھواتے ہیں،  بلاشبہ ان سب خوبیوں میں  آپ کے ہی ملک کے علماء اور مدراس کا اصل کردار ہے۔

باغ سے پھل توڑنا کمال نہیں کمال تو یہ ہیکہ اس باغ کو اس مزدور  نے اس قابل بنادیا جو اسکو پانی دیکر کھاد دیکر تناور درخت بنادیا۔اب آپ بتائیں اصل تعریف کے مستحق کون ہوئے وہ مزدور جس نے اسکو تناور درخت بنایا یا وہ مالی جو پھول یا پھل توڑ کر خود بھی کھاتا ہے اور بیچتا ہے؟

 عزیزو پیاروں ہمارے دیار میں ایک سے بڑھ کر ایک علم وفضل وکمال کے بادشاہ ہیں آج ہم اور آپ جو کچھ بھی ہیں ان کی ہی مرہون منت ہیں یہ مت کہا کریں یا سوچا کریں کہ ہمارے علماء  نے کیا دیا؟ بلکہ یہ سوچیں کہ وہ کیا ہے جو نہیں دیا۔

انگلی پکڑ کر جو چلنا سیکھایا ہے وہی تو اصل میں آپ کا مربی ہے، محسن ہے، اسی لیے اپنے ملک کے کسی بھی مشاہیر علمائے اکابر کیلے ایسے نازیبا جملے استعمال نہ کیا کریں کہ شیر نیپال نے کیا دیا؟ فخر نیپال نے کیا دیا؟ قاضی نیپال نے کیا دیا؟ اشرف العلماء نے کیا دیا ؟ بلکہ خود یہ سوچیں کہ ہمارے ملک کا جامعہ حنفیہ غوثیہ کسی اشرفیہ سے کم نہیں، ہمارے ملک کا قادریہ مصباح المسلمین علی پٹی کسی علیمیہ سے کم نہیں، دارلعلوم قادریہ رشیدیہ امجدیہ سے کم نہیں، فیضان مدینہ فیض الرسول سے کم نہیں، مدرسہ مظہر العلوم منظر اسلام سے کم نہیں۔

الحمد لله یہ ادارے ہمارے لیے باعث صد افتخار ہیں ان اداروں نے ہی تو ہم کو اس قابل بنایا کہ ہمارے اندر شعور و آگہی پیدا ہوئی  اگر ہمارے علماء یہ مدارس نہیں بناتے تو آپ بتائیں کیا ہندوستان کے ان بڑے بڑے مدارس میں داخلہ ہوتا جہاں پر اولی اعدادیہ کے بعدہی داخلہ ہوتا ہے؟

اب رہی بات ہمارے ملک میں جامعۃ الرضا کیوں نہیں بنا؟ امجدیہ کیوں نہیں بنا؟ اشرفیہ کیوں نہیں بنا؟ تو ہمارے ملک میں نہ کوئی صدرالشریعہ پیدا ہوئے نہ اعلی حضرت پیدا ہوئے نہ تاج الشریعہ پیدا ہوئے نہ حافظ ملت پیدا ہوئے نہ شعیب الاولیا پیدا ہوئے ان تمام بزرگوں کا قدیم سلسلہ طریقت رہا ہے اسی کا سہارا لیکر ہمارے ان بزرگوں نے اپنے اپنے ادارے کو چمکایا بنایا،  بعض وہ ہیں جیسے حضور محدث کبیر ہی کو لے لیں وہ اپنے تنخواہ اور پروگرام کے نذرانے اور مریدوں کے نذرانوں سے امجدیہ کو آج امجدیہ بنادیا اسی طرح حضور تاج الشریعہ نے اپنے مریدوں اور محبین کے نذرانوں سے جامعۃ الرضا بنادیا علی ھذا القیاس۔  مجھے تو ایک خبر ملی تھی کہ بمبئ کا کوئی ایک ہی سیٹھ ہے جو جامعۃ الرضا کے کھانے کا انتظام کرتا ہے اللہ اسکو برکت دے۔ بتائیں ہمارے نیپال میں کون ہے اتنا بڑا سیٹھ جو کسی مدرسہ کا تنہا کفیل ہو ؟ یا کسی ایک مدرس کی تنخواہ دیتا ہو؟  ہوں گے تو مجھے اس کا علم نہیں ہے۔

ہندوستان کی طرح نیپالی مسلمان بھی تو معاشی حالت میں بہتر نہیں، پھر ہندوستان کو نیپال پر منطبق کرنا کونسی عقلمندی ہوگی؟ اس لیے میرے عزیزوں آپ حضرات احساس کمتری کا شکار نہ ہوں۔

رہی بات تعلیم وتعلم کی تو ہاں حالات جس طرح بدل رہے ہیں اسی طرح ہمارے علمائے نیپال کو بھی تعلیمی میعار مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے ہمارے پاس ادارے ہیں علماء ہیں بس جو کمی ہے اس کو ہم سب کو مل جل کر بہتر کرنے کی کوشش کرنی ہے تاکہ مستقبل میں ہم خود مختار ہوسکیں۔

 اس عنوان پر ایک نہیں ہزاروں بار گروپس میں باتیں ہوچکی ہیں مگر افسوس باتیں تو بہت ہوتی ہیں مگر عملی طور پر اقدام نہیں ہوتا۔

رہی بات اختلاف کی تو ہمارے قدیم علماء  نے جو اختلاف کیا وہ کیا، کم از کم ہم سب جو جدید نسل کے علماء  ہیں اس کو پاٹنے کی کوشش کریں، اتحاد کا پیغام دیں۔

ملک میں ہو یا ملک سے باہر کوئی بھی عالم اگر اختلاف وانتشار کو ہوا دیتا ہے ان سے پہلے افہام وتفہیم کرکے مسائل کا حل کریں اگر وہ باز نہیں آئیں تو انکو اپنے حال پر چھوڑ کر آگے بڑھیں۔

باتیں ابھی بہت باقی ہیں، وقت کی قلت پیش نظر اپنی مختصر تحریر اور درد جگر کو موقوف کرتا ہوں اس امید پر کہ آپ یا دیگر ہمارے علمائے نیپال یا طلبائے نیپال اپنے شیوخ و اکابرین کی قربانیوں کو فراموش نہیں کریں گے، بلکہ ان کے مشن کو مزید تیز سے تیز کردیں گے۔ خاص کر باہر پڑھنے والے ہمارے عزیز طلبہ اپنے سے بڑے علماء کی تحقیر وتضلیل سے بچیں گے۔

یہ یاد رکھیں آپ مستقبل میں قوم کے سرمایہ ہیں، ملت کے ہیرے ہیں، اگر ابھی سے ہی آپ اختلاف وانتشار کے بھنور میں پھنس جائیں گے تو مستقبل تابناک نہیں تاریک ضرور ہوجائےگا۔

اللہ تعالی آپ سب کو اپنے حفظ وامان میں رکھے اور وقت کا عظیم عالم ومفتی بنائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین الی یوم الدین 


*شھاب الدین حنفی، سمردہی*

 نائب مہتمم جامعہ سیدہ فاطمہ للبنات، جلیشور

مقیم حال الدولۃ السعودیہ 

15.8.2023

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے