السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب قبلہ
دریافت طلب امر یہ ہے کہ ،زید کے پاس تین لڑکے بکر، عمر، خالد ہیں۔جن میں سے خالد لاولد ہے اور بکر کے پاس ایک لڑکی اور عمر کے پاس ایک لڑکا ہے۔
سوال یہ ہے کہ زید اور اس کے تینوں لڑکے بھی انتقال کرچکے ہیں، تواب زید کی میراث کیسے تقسیم ہوگی؟
قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
سائل: محمد اختر رضا نیپال گنج
بسم الله الرحمن الرحىم
الــجـــوابــــــــــــــــ بعون الملك العزيز الوهاب
بعد تقدیم ماتقدم علی الارث زید کی میراث "للذکر مثل حظ الانثیین" کے تحت تین حصوں میں تقسیم ہوگی۔ ان میں سے ایک حصہ پوتی کو اور دو حصے پوتا کو ملیں گے۔ مثلا:
زید۔ میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بکر کان لم یکن عمر کان لم یکن خالد کان لم یکن
پوتی۔ ۱ پوتا۔ ۲
اس لیے کہ مورث کے مال کی تقسیم سے پہلے اس کا کوئی وارث فوت ہوجائے تو اس صورت میں میت اول کے مال کی تقسیم سے پہلے ہی میت ثانی کا حصہ اس کے وارثوں کی طرف شرعا منتقل ہوجاتا ہے۔
اور اگر ایسے وارث کےورثہ وہی ہوں جو میت اول کے وارث تھے اور اس کے مرجانے سے طریقہ تقسیم متغیر نہ ہو، تو ایسی صورت میں اس وارث متوفی کے نام کے نیچے لفظ "کان لم یکن" لکھ دیں گے اور بغیر اس کے شمول کے میت اول کے مسئلے کی تصحیح ہوجائے گی۔
ایساہی فتاوی رضویہ شریف میں ہے:
"(لوصار بعض الانصباء میراثا قبل القسمۃ) فنقول ان کانت ورثۃ المیت الثانی من عداہ من ورثۃ المیت الاول ولم یقع فی القسمۃ تغیر فانہ یقسم المال حینئذ قسمۃ واحدۃ اذ لا فائدۃ فی تکرارھا"۔(ج۱۰، ص ۳۳۱، مطبع، رضا اکیڈمی) واللہ تعالی اعلم باالصواب۔
کتبہ محمد کلام الدین نعمانی مصباحی امجدی
نعمانی دارالافتا، بنوٹا، مہوتری، نیپال

.jpg)
0 تبصرے