السلام
وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
علمائے کرام و مفتیان عظام کی بارگاہ میں
عرض یہ ہے کہ دادا نے اپنے 270 ایکسرپٹ کی
زمین اپنے ایک پوتے کو تحفے میں دیا تھا لیکن
پوتا نابالغ تھا جس کی وجہ سے ڈاکومنٹس پر نام نہیں لکھا جاتا تو دادا نے پالن پوری کے لئے اپنی بہو یعنی پوتے کی والدہ کا نام لکھا
تاکہ پوتا جب بالغ ہو جائے گا تو والدہ دادا کی ملکیت کو اپنے بیٹے کو دے دیتی لیکن
اب والدہ دینے سے انکار کر رہى ہے
دادا
اور پوتے کا کافی سالوں پہلے انتقال ہوگیا ہے
اب
دادا کی بہو حیات ہے اور دادا کے پوتے کی
ایک بیوی دو لڑکے اور چار لڑکیاں حیات
ہے
حضرت
ہمیں لگتا ہے کہ مسئلہ آپ کو سمجھ میں آگیا ہوگا
؟
حضرت
دادا نے اپنی بہو کو جو پالن حال بنایا
تھا یعنی امانت دار بنایا تھا وہ اب مالک
کا دعوى کر رہی ہے کیا اس کا دعوے کرنا شریعت کی نظر میں درست رہیگا ؟ علمائے
کرام و مفتیان عظام قرآن وحدیث کی روشنی میں
جواب عنایت فرما کر کرم فرمائے
سائل توصیف احمد ابن مرحوم عبد الرؤف دھولیہ
مہاراشٹر انڈیا
بسم الله الرحمن الرحىم
الـــــــجـــــــــــــوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بعون الملك العزيز الوهاب
اولا: ۔بصحت
سوال مذکورہ اگر واقعی پوتا کے علاوہ کوئی
دوسرا وارث نہ ہو تو پوتا ہی میت (دادا)
کا وارث ہوگا،اس لیے کہ جب میت کا کوئی ذوی الفروض نہ ہو تو اس کا سب سے قریبی عصبہ
اس کی جائداد کا حق دار ہوتا ہے۔
اور پوتاعصبات
میں سے ہے،لہذا پوتا اپنے دادا کا صحیح وارث ہوا، ساری جائداد کا مالک بھی یہ ہوا،
بعد وفات اس کی جائداد متروکہ اس کے وارثین میں تقسیم ہوگی۔
بہو سسر کی
جائداد کی وارث نہیں ہوتی ہے، البتہ وہ اپنے بیٹے (یعنی دادا کے پوتے) کی جائداد
سے حصہ پائے گی۔
السراجی میں
ہے: "ثم بالعصبات من جہۃ
النسب، والعصبۃ کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض و عند الانفراد یحرز جمیع
المال"۔
(ص ۱۳)
اسی میں ہے:
"العصباۃ
النسبیۃ۔۔۔۔۔جزء میت ای: البنون ثم بنوھم و ان سفلوا"۔ (ص۲۹) واللہ
تعالٰی اعلم۔
ثانیا: ۔ اگر
دادا نے پوتے کو اپنا مال ہبہ کر دیا ہے (یعنی
تحفہ میں دیا ہے) پھر بھی پوتا اس مال کا مالک ہوگیا، اور اس کی ماں کا نام جو
کاغذ پہ لکھا ہوا ہے وہ صرف بطور محافظ اور امانت دار کے ہے، لہذا جب بچہ بالغ ہوگیا
تو اب اس پہ لازم و ضروری ہے کہ اس کا مال واپس کردے، اور اگر واپس نہ کرے گی اور
اس پہ اپنی ملکیت بتائے گی تو وہ حق اللہ اور حق العباد دونوں میں گرفتار ہوگی،
اور مستحق عذاب نار ہوگی۔
فتاوی
امجدیہ میں ہے: "اپنی زندگی و صحت میں اگر اس نے ہبہ کردیا اور قبضہ دلا دیا
تو یہ ہبہ صحیح ہوگا"۔ (ج۳، ص۳۸۰)
ایسا
فتاوی مرکز تربیت افتا(ج۲،ص۵۸۱)
میں
ہے۔
اورفی الوقت
پوتا بھی انتقال کر چکا ہے، تو اب اس کی ساری جائداد کے وارث مذکورہ اشخاص یعنی
والدہ، بیوی، بیٹااور بیٹی ہوں گے۔
لہذا صورت
مسئولہ میں پوتے کی جائداد کے کل 192 حصے ہوں گے،
جن میں ماں كو 32 حصے ،بیوی کو 24 حصے ، ہر بیٹے کو 34، 34
حصے اور بیٹی کو 17،
17حصہ دے۔
یعنی فٹ کے
حساب سے ماں کو 45 فٹ، بیوی کو تقریبا 33 فٹ، بیٹے کو 47،47 فٹ اور بیٹیوں کو
23،23 فٹ کم و بیش۔ جو نقشہ کے اخیر میں مکمل درج ہے۔
مسئلہ 24
x 8 = 192 زمین 270 اسكوائر فٹ
ماں بیوی بیٹا بیٹا بیٹى بیٹى بیٹى بیٹى
سدس ثمن عصبہ عصبہ عصبہ عصبہ عصبہ عصبہ
4 3 17
32 24 34 34 17 17 17 17
السراجی میں ہے:
۲۳/ربیع الغوث ۱۴۴۴ھ بروز سنیچر
الجواب صحیح الجواب صحیح
قاضی نیپال مفتی محمد عثمان برکاتی مصباحی مفتی عبد السلام برکاتی امجدی
صدر
و مفتی مرکزی ادارہ شرعیہ، کاٹھمنڈو، نیپال
تاراپٹی، دھنوشا، نیپال

.jpg)
0 تبصرے