Header Ads Widget

Responsive Advertisement

جنازہ میں پہلی صف چھوٹی ہو اور بعد والی بڑی تو کیا حکم ہے

جنازہ میں پہلی صف چھوٹی ہو اور بعد والی بڑی تو کیاحکم ہے 

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ نماز جنازہ میں اگر پہلی صف چھوٹی ہو، جس میں تقریبا پچاس لوگ ہوں اور اسکے بعد والی ساری صفین لمبی ہوں جن میں تقریبا ہر صف میں ستر، اسی لوگ ہوں تو کیا نماز جنازہ میں کوئی کراہت ہوگی یا بغیر کسی کراہت کے نماز ہوجائے گی؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

 المستفتی سخاوت رضا نوری، دربھنگہ بہار انڈیا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب صورت مسؤلہ میں نماز جنازہ بلا کراہت درست ہے، البتہ بہتر یہی ہے کہ دیگر نمازوں کی طرح اس کی صفیں بھی درست کریں، اس بات کا خیال کرتے ہوئے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: "صفیں برابر کرو کہ صفیں برابر کرنا تمام نماز سے ہے"۔ (صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، الحدیث ۴۳۳)

نماز جنازہ فرض کفایہ ہے کسی ایک نے بھی پڑھ لی تو سب بری الذمہ ہوگئے، اور اس کے لیے جماعت شرط نہیں، ایک شخص بھی پڑھ لے فرض ادا ہو گیا۔ ایسا ہی بہار شریعت(ج۱، ص ۸۲۵) میں ہے۔

اور اگر جماعت کے ساتھ نماز جنازہ ادا کرے تو اور نمازوں کی طرح اس کی صفیں بھی درست کرے، اور پہلے اگلی صف کو پورا کرے پھر دوسری تیسری صفوں کو پورا کرے، کیوں کہ صفوں کوترتیب وار پورا کرنا حدیث سے ثابت ہے۔

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں: "صف مقدم کو پورا کرو پھر اس کو جو اس کے بعد ہو، اگرچہ کچھ کمی ہو تو پچھلی میں ہو"۔ (سنن ابی داؤد ، کتاب الصلاۃ ، الحدیث ۶۷۱)

اور بہتر یہ ہے کہ نماز جنازہ میں کم از کم تین صفیں کریں کہ حدیث پاک میں ہے: "جس کی نماز تین صفوں نے پڑھی اُس کی مغفرت ہو جائے گی"۔ اور اگر کُل سات ہی شخص ہوں تو ایک امام ہو اور تین پہلی صف میں اور دو دوسری میں اور ایک تیسری میں ہو۔ ایسا ہی بہار شریعت(ج۱، ص۸۳۵،۸۳۶) میں ہے۔

کما فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 214)

ولهذا قال في المحيط: ويستحب أن يصف ثلاثة صفوف، حتى لو كانوا سبعة يتقدم أحدهم للإمامة، ويقف وراءه ثلاثة ثم اثنان ثم واحد. اهـ. فلو كان الصف الأول أفضل في الجنازة أيضا لكان الأفضل جعلهم صفا واحدًا ولكره قيام الواحد وحده كما كره في غيرها، هذا ما ظهر لي

(الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 214)

ہاں اتنا ضرور ہے کہ نماز جنازہ میں آخری صف سب سے افضل ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگلی صف کو ادھورا چھوڑ کر پچھلی صفوں میں چلے جائیں، بلکہ جو لوگ اگلی صف میں ہوں گے وہ صف کی کشادگی کو پر کرنے کی وجہ سے ثواب کے حق دار ہوں گے اور جو پچھلی صفوں میں ہوں گے وہ نماز جنازہ کی خصوصیت سے مشرف ہوں گے۔

لہذا مسلمانوں کو چاہئے کہ جس طرح دیگر نمازوں میں صفیں سیدھی کرتے ہیں اسی طرح نماز جنازہ میں بھی کریں، اور ترتیب وار صفیں پر کریں، اور اگر کسی وجہ سے مثلا آگے زمین کی تنگی وغیرہ ہے تو پھر جس طرح بہتر ہو وہ طریقہ اختیار کیا جائے۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب

کتبہ محمد کلام الدین نعمانی مصباحی امجدی

۲۳/ ربیع النور ۱۴۴۴ھ بروز جمعرات

نعمانی دارالافتاء و القضا بنوٹا، مہوتری نیپال

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے