بولیئر چکن کا حکم
آج کل ایک پوسٹ بولیئر چکن کے متعلق گردش میں ہے کہ اس کا کھانا حرام ہے۔
جس پہ قاضی نیپال فاؤنڈیشن میں رائے طلب کی گئی، تو کئی احباب اور ناچیز نے اپنی رائے پیش کی۔
ملاحظہ فرمائیں!!!!!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
ان شاءاللہ العزیز امید قوی ہے کہ سبھی احباب بخیر و عافیت ہوں گے۔
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
مذکورہ تحریر کسی بھی جہت سے درست نہیں، اور نہیں قابل قبول ہے۔
اولا تو یہ بات ماننے والی ہی نہیں ہے کہ کسی جاندار کی پیدائش کسی انسان کی ایجاد سے ہو ۔
ثانیا یہ کہ اس تحریر میں جو تحقیق پیش کی گئی ہے وہ سرے سے جھوٹ ہے، کیوں کہ اس میں لکھا ہوا ہے کہ
"چکن کی تحقیق منظر عام پہ آتے ہی پابندی لگا دی گئی"۔۔۔۔۔۔ "اگر یہ تحقیق منظر عام پر آجاتی تو مغرب کی ملٹی بلین ڈالر برامکر چکن انڈسٹری تباہ ہو جاتی"۔
تو اب سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ تحقیق منظر عام پہ آئی نہیں تو آں جناب کو یہ تحقیق کیسے اور کہاں سے مل گئی ہے؟
دوسرا سوال یہ کہ جب اس محقق کو نفسیاتی مریض قرار دیا گیا تو اب تک آپ کو کیوں کھلی آزادی ملی ہوئی ہے؟ اس خبر کی وجہ سے تو آپ کو بھی اندر ہونا چاہئے، کیوں کہ اس خبر سے مغرب کو ملٹی بلین ڈالر کا خسارہ ہو جائے گا۔
تو ان دونوں سوالوں کا ایک ہی جواب ہے کہ یہ خبر محض بے بنیاد اور مسلمانوں کو پریشانی میں مبتلا کرنا ہے۔
کہاں مرغا، مرغی اور کہاں خنزیر، دونوں میں بہت کا فرق ہے۔
مثلا دونوں کی شکل و صورت، جسامت و قد و قامت، رنگ و نسل، خورد و نوش، چال ڈھال بلکہ ہر ہر جز میں امتیاز ہے۔
ایک جگہ لکھا ہوا ہے:
"برامکر جس ٹیکنالوجی سے پیدا گیا ہے اس میں خنزیر کے ماڈل کو ہی فالو کیا گیا ہے"۔
استغفراللہ بغیر کسی تحقیق کے لاعلمی اور محض ایک غلط افواہ کی وجہ سے کیسی کیسی باتیں لوگ لکھ دیتے ہیں اور انہیں احساس تک نہیں ہوتا کہ کیا لکھ رہا ہے اور اس کا اثر کہاں تک جائے گا۔
اب شرعی دلائل ملاحظہ فرمائیں!
مزید وضاحت کرتا چلوں کہ کسی بھی پاک اور حلال چیز کو بغیر کسی تحقیق اور یقین کے ناجائز و حرام نہیں کہا جا سکتا ہے اور نہیں اسے ناپاک کہا جاسکتا ہے، کیوں کہ شریعت نے ہمیں سہولت بھی دی ہے اور کسی بھی شئی میں حرام و حلال کو جاننے کا اصول بھی بتایا ہے۔
القرآن الکریم میں ہے:"الیوم احل لکم الطیبت"۔ (سورہ مائدہ، آیت ۵) ترجمہ: آج تمہارے لیے پاک چیزیں حلال ہوئیں۔ (کنز الایمان)
اورمرغا ، مرغی کا کھانا تو خود حضور نبی کریم ﷺ سے سبھی ثابت ہے۔
بخاری شریف میں ہے: عن أبی موسی قال :(( رأیت النبی ﷺ یأکل الدجاج )) ( ج ۲،ص ۸۲۹، کتاب الذبائح ، مطبع: رضا اکیڈمی)
ترجمہ: حضرت ابو موسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انھوں نے فرمایا کہ میں نے نبی اکرمﷺ کو مرغی (کا گوشت ) کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔
اب رہ گئی بات "برامکر چکن" کی تو یہ بھی مرغی ہی کی ایک جنس ہے۔البتہ آج کل انسانوں کو ہر چیز کی جلدی ہے، اسی لیے اس مرغی کی غذا میں دوا وغیرہ کا استعمال كىاجاتا ہے جس سے وہ بہت تیزی سے بڑھتى، پھولتى اور وزن دار ہو جاتى ہے۔ اسی طرح آج کل سبزى وغیرہ مثلا کدو میں بھی دوا کا استعمال کیا جاتا ہے، جو کدو بلا دوا ایک مہینہ میں تیار ہوتا ہے وہی دوا کی وجہ سے پندرہ دن میں تیار ہو جاتا ہے۔
اب اگر کوئی اپنی ناقص بات پیش کرے محض شک و شبہ کی بنیاد پر تو یہ قابل قبول نہیں ہے۔
الاشباہ والنظائر میں ہے: "الیقین لا یزول بالشک" ۔یقین شک سے زائل نہیں ہوتا۔
دوسری جگہ ہے: "ما ثبت بیقین لا یرفع الا یقین"۔ جو چیز یقین سے ثابت ہوتی ہے وہ صرف یقین ہی سے زائل ہو سکتی ہے۔
اسی میں ہے: " الاصل فی الاشیاء الاباحۃ"۔ ہر چیز اصل میں مباح و جائز ہے۔
ان عبارات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ محض افواہ کی بنیاد پہ کسی پاک و حلال چیز کو کبھی بھی ناپاک اور حرام نہیں کہا جا سکتا ہے۔
اس میں نجس جانور کے مادہ کی بات ہے تو ایک بات اور ذکر کرتے چلوں کہ شریعت میں ہے کہ ایسا حلال جانور جس کی پیدائش اور نشو نما میں کسی حرام شئی کی آمیز ش ہو جائے تو اسے جلالہ کہا جاتا ہے، مثلا بکری کا بچہ کتیا کا دودھ پی لیا، وہ مرغی ، گائے، بکری وغیرہ جو گندگی کھاتی ہے، ان سب کا حکم ہے کہ کچھ دن اسے باندھ کر رکھا جائے اور پاک غذا کھلایا جائے، پھر یہ سب قابل استعمال ہے اور جائز ہے۔ ایسا ہی بہار شریعت (ج۳، ص۳۲۵) ، ایسا ہی فتاوی ہندیہ اور فتاوی شامی ( کتاب الذبائح ) میں ہے۔
اور اگر کچھ دیر کے لیے مان بھی لیا جائے کہ اس چکن میں نجس جانور کا ماڈل کسی طرح سے ملا گیا ہے، پھر بھی تو شکل و صورت، رنگ ڈھنگ سب مرغی کا ہی ہے۔ بلکہ شریعت میں یہاں تک ہے کہ اگر کسی حلال و پاک جانور مثلا بکری سے کوئی بچہ کتے کی شکل کا پیدا ہوا اور اس کے اندر بکری کی سی عادت و اطوار اور صفت پائی جائے تو ذبح کے بعد اس کے سر کے علاوہ سارے حلال اعضا ء کا کھانا جائز ہے۔ ایسا ہی بہار شریعت (ج۳، ص ۳۲۶) اور فتاوی ہندیہ و فتاوی شامی ( کتاب الذبائح ) میں ہے۔
لہذا اس کے استعمال میں کسی طرح کی کوئی قباحت نہیں ہے ۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد كلام الدین نعمانى مصباحى

0 تبصرے