امام و مدرس كى تنخواه کاٹنا كىسا ہے
السلام علیکم و رحمۃ الله تعالٰی وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں
مفتیان کرام وعلماۓذوالاحترام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں ۔
کہ ایک عالم
صاحب ہیں جو ایک مسجد میں امامت کرتے ہیں اور بچوں کو بھی پڑھاتے ہیں امامت کاکام فرائض انجام دینے سے پہلےوہ جس
گاؤں میں امامت کرتے ہیں اس گاؤں کے ایک حافظ صاحب سے بات کی تو انھوں نے کہا تھا
کہ دوردراز میرا مکان ہے تو میں مہینے دو مہینے یا تین مہینے پر جب میں گھر آؤنگا
تو وظیفہ(تنخواہ) نہیں کٹنی چاہیے ارو چھٹی کے تعلق سے بھی کہا تھا میں دوردراز
رہتا ہوں تو پانچ چھ چھٹی مہینے کی چاہیے تو حافظ صاحب نے کہا تھا کہ ٹھیک ہے حضرت
آپ آئیۓ اس کے لیے ٹینشن
نہ لیجیے اب ایک سال سے کچھ زیادہ ہوگئے امامت کرتے ہوئے تو اب صدر اورگاؤں کے دو
تین لوگ کہتے ہیں کہ تنخواہ کٹنی چاہیے صرف چار چھٹی ملے گی اور امام صاحب کا کہنا
ہےکہ جو بات ہوئی ہے اس کے مطابق پانچ چھ چھٹی مہینے کی نکال کر کے جو زیادہ ہواسکی
تنخواہ کٹنی چاہیے اور کی نہیں پوچھنا یہ
ہے کہ امام صاحب جو کہ رہے ہیں وہ ٹھیک ہے یاجوصدر اور دو تین لوگ کہ رہے ہیں وہ
ٹھیک ہے اور امام صاحب کا جن دنوں میں گھر پر تھے مہینے کے اعتبار سے پانچ چھ دن
اسکی تنخواہ کی جائزہے کہ نہیں حوالے کے ساتھ اس سوال کا جواب دے کر شکریہ کا موقع
دیں ..سائل محمد احمد رضا صدیقی بہرائچ شریف یوپی
بسم اللہ
الرحمن الرحیم
الجواب بعون
الملک الوھاب
جو تعطیلات
(چھٹیاں) مدارس دینیہ میں رائج ہیں جیسے جمعہ، جمعرات، ششماہی و سالانہ امتحان کے
بعد، عیدین، محرم الحرام اور بارہویں وغیرہ کی تعطیلات مدرسین ان کی تنخواہ پانے
کے مستحق ہیں، ساتھ ہی مہینہ میں جتنی تعطیلات کا معاہدہ ہوا ہے ان کی تنخواہ بھی۔
امام کا اس سے زیادہ لینا اور اراکین کا اس سے کم کر کے دینا جائز نہیں ہے۔
فتاوی رضویہ
میں ہے:
"
تعطیلات معہودہ میں مثل تعطیل ماہ مبارک رمضان و عیدین وغیرہا کی تنخواہ مدرسین کو
بے شک دی جا ئیں گی۔ فان المعهود عرفا كالمشروط مطلقااھ"۔(ج ۶،
۱۴۱، مصارف وقف)
اسی میں ہے:
"اصل
کلی شرعی یہ ہے کہ اجیر خاص پر حاضر ہونا اور اپنے نفس کو کار مقرر کے لیے سپرد
کرنا لازم ہے جس دن غیر حاضر ہوگا اگرچہ مرض سے، اگر چہ کسی ضرورت سے اس دن کے اجر
کا مستحق نہیں، مگر معمولی قلیل تعطیل جس قدر اس صیغہ میں معروف و مروج ہو عادة
معاف رکھی گئی ہے اور یہ امر باختلاف حاجت مختلف ہوتا ہے"۔ (ج۶،
ص ۳۶۹)
الاشباه والنظائر میں ہے:
"البطالة
في المدارس كايام الاعياد و يوم عاشورة و شهر رمضان في درس الفقه على وجهين فان
كانت مشروطة لم يسقط من المعلوم شئ و الا فينبغي أن يلحق ببطالة القاضى وقيل لا وفی
المنية يستحق فى الاصح واختاره في منظومة ابن وهبان وقال انه الاظهر اھ ملخصاً
اقول هذه الترجيحات حيث لم يشترط فكيف اذ شرط هذا ليس محل نزاع وقد علمت ان
المعروف كالمشروط" اھ۔ (من الفن الاول، القاعدة السادسة، ص۱۰۴)
لہذا درج بالا عبارات سے معلوم ہوا کہ تعطیلات
معہودہ (یعنی ماہانہ جتنی تعطیل کا معاہدہ ہوا ہے) اور رائج دینی تعطیلات سے زیادہ
اگر امام چھٹی کرے تو صدر و ناظم کو اختیار ہے تنخواہ سے کاٹنے کا، ورنہ جائز نہیں
ہے، بلکہ ان پہ لازم ہے کہ پوری تنخواہ دیں، اور ناحق کسی کا مال ضبط نہ کریں۔
واللہ تعالی اعلم
رہا یہ مسئلہ
کہ کس کی بات مانی جائے تو اس میں امام صاحب کا قول پانچ یا چھ کا ہے، اور صدر وغیرہ
کا کہنا ہے کہ صرف چار چھٹی ہوگی۔
لہذا امام صاحب پانچ چھ دنوں کی بات کرتے اور صدر وغیرہ چار دنوں کی تو بہتر اور مناسب یہی ہے کہ چھ اور چار کے بجائے پانچ دنوں کی چھٹی کا اعتبار کیا جائے تاکہ امام صاحب کی بھی دل آزاری نہ ہو اور نہیں صدر وغیرہ کی۔اور دونوں ایک دوسرے کے حقوق سے بری الذمہ بھی ہو جائے۔ واللہ تعالٰی اعلم بالصواب۔کتبہ محمد کلام الدین نعمانی مصباحی...۱۵/ ربیع النور ۱۴۴۴ھ بروز بدھ

.jpg)
0 تبصرے