Header Ads Widget

Responsive Advertisement

جو صفات اللہ کے ہیں ان صفات کو بندوں کے لیے ماننا كيسا ہے

 

جو صفات اللہ کے ہیں ان صفات کو بندوں کے لیے ماننا كيسا ہے

السوال نمبر..1..   سلفی کہتا ہے کہ جو صفات اللہ کے ہیں ان صفات کو بندوں کے لیے ماننا شرک ہے۔

الـــــــجـــــــــــــوابـــــــــــــــــــــــ: بعون الملك الوهاب سلفی شرک کو سمجھتے ہی نہیں، اورپوری عمر گزر جائے گی لیکن نہیں سمجھیں گے اگر سمجھنے کی کوشش نہ کریں، اللہ تعالی کی بہت ساری صفتیں غیراللہ کے لیے بولتے ہیں، مگر شرک نہیں ہوتا ہے۔ مثلا : اللہ بھی حی (زندہ ) ہے اور بندے بھی حی ہیں۔

قرآن شریف میں آیا ہے:" یخرج الحی من المیت"۔ وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے۔

اس میں‘‘الحی’’ سے مراد اللہ نہیں ، بلکہ غیر اللہ ہیں۔

اسی طرح اللہ بھی سمیع و  علیم ہے اور بندے بھی سمیع و علیم ہیں۔ سو رہ اسری میں ارشاد ربانی ہے:

"لنریہ من آیاتنا انہ ھو السمیع العلیم"۔ اس آیت میں اکثر مفسرین کے مطابق "السمیع العلیم" سے مراد حضور علیہ السلام کی ذات مبارک مراد ہے۔

اسی طرح اللہ بھی قادر ہے بندے بھی قادر ہیں، اللہ بھی موجود ہے غیر اللہ بھی موجود ہیں، تو کیا یہ شرکیہ جملہ ہے؟ ہرگز نہیں۔

اگر سلفی کہیں گے کہ ہاں شرکیہ جملہ ہے تو لازم آئے گا کہ سلفی کے مطابق اللہ بھی مشرک ہو جائے ، کیوں کہ اسی نے غیر اللہ کو "حی"  کہا ہے، اسی نے غیر اللہ کو" السمیع العلیم" کہا ہے۔ تو کیا یہ سلفی اللہ کو بھی اپنے فتوی کے قلم سے مشرک کہیں گے؟

بات در اصل یہ ہے کہ ان سلفیوں کو شرک کا صحیح معنی مطلب معلوم ہی نہیں ہے۔ ایک ضابطہ یاد رکھیں کہ جو جو صفات اللہ اور غیر اللہ دونوں کے لیے استعمال ہوئے ہیں یا ہوتے ہیں ، ان میں کیفیات کا فرق ہوتا ہے۔ مثلا اللہ بھی سمیع و علیم اور بندے بھی سمیع و علیم مگر دونوں میں فرق ہے۔ اللہ سمیع  وعلیم ہے تو اس کی سماعت اور اس کا علم ذاتی ہے، ازلی ہے، ابدی ہے،  قدیم ہے،  واجب ہے،غیر مسبوق بالعدم ہے۔

اور غیر اللہ بھی سمیع و علیم ہے، مگر اس کی سماعت و علم عطائی ہے، حادث ہے، غیر قدیم ہے، ممکن ہے، مسبوق بالعدم ہے۔  یوں ہی اللہ کی باقی صفتوں کو سمجھئے، کہ اللہ کی تمام صفات ذاتی، ازلی، ابدی، قدیم، واجب اور غیر مسبوق بالعدم ہیں، جب کہ بندوں کی صفتیں ایسی نہیں ہیں۔ واللہ تعالی بالصواب

 كتبہ محمدعثمان برکاتی مصباحى، مرکزی ادارہ شرعیہ، پنج تکیہ کشمیری جامع مسجد ، کاٹھمنڈو(نیپال)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے