فتوى نمبر..1..
کوئی
شخص نفلی روزہ کو توڑ دے تو اس پر اس روزے کی قضا ضروری ہے یا نہیں؟ وہابی ایف ایم
سے بتایا گیا تھا کہ اس کی قضا نہیں ہے اس کے لیے کسی حدیث کا حوالہ بھی دیا تھا
ہمارے یہاں کیا حکم ہے؟
بسم الله الرحمن الرحىم
الـــــــجـــــــــــــوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بعون الملك العزيز الوهاب
وہابی
ایف ایم سے جس حدیث کا حوالہ دیا تھا وہ اس طرح ہے۔
عن
عائشۃ ام المؤمنین رضی اللہ تعالی عنہا قالت قال رسول اللہ ﷺ ذات یوم یا عائشۃ ھل
عندکم شئی قالت فقلت یا رسول اللہ ما عندنا شئی قال فانی صائم قالت فخرج رسول اللہ
ﷺ فاھدیت لنا ھدیۃ او جائنا زور قالت فلما ربع رسول اللہ ﷺ فقلت یا رسول اللہ ﷺ
اھدیت لنا ھدیۃ او جاء نا زورو قد خسئات لک شیئا قال ماھو قلت حسیس قال ھائیۃ فجئت
بہ فاکل ثم قال قد کنت اصبحت صائما۔
یعنی
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ ایک روز مجھ سے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ میں نے عرض کیا اے اللہ
کے رسول ﷺ ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے آپ نے فرمایا پھر میں روزہ سے ہوں ، پھر
آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے، پھر ہمارے پاس کچھ ہدیہ آیا ہے اور کچھ
مہمان بھی آگئے ، جب رسول اللہ ﷺ دوبارہ تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یا رسول
اللہ ﷺ ہمارے پاس کچھ ہدیہ آیا اور مہمان بھی آگئے اور میں نے کچھ آپ کے لیے چھپا
رکھا ہے، آپ نے فرمایا وہ کیا ہے میں نے کہا وہ حسیس ہے آپ نے فرمایا اس کو لے آؤ
میں اس کو لے کر آئی آپ نے اسے کھالیا پھر آپ نے فرمایا میں نے صبح روزے کی حالت میں
کی تھی۔ (مسلم شریف)
اس
حدیث سے امام شافعی اور امام احمد نے نفلی روزے کو توڑنا جائز کیا ہے اور یہ بھی
کہا ہے کہ اس روزہ کی قضا بھی واجب نہیں ہے کیوں کہ نفل کے کرنے اور نہ کرنے دونوں
کا اختیار انسان کو ہے۔
مگر
ہمارے امام اعظم ابو حنیفہ اور امام مالک کے نزدیک نفلی روزے کو توڑنا جائز نہیں ،
اور اگر کوئی توڑ لے تو اس کی قضا واجب ہے کیوں کہ نفل کو جب تک بندہ شروع نہیں کیا
ہوتا ہے اس وقت تک اس کے کرنے اور نہ کرنے کا اختیار ہوتا ہے، مگر جب شروع کردے تو
اس کا پورا کرنا لازم ہو جاتا ہے۔
ہماری دلیل قرآن پاک میں
رب کا اعلان ہے:"لاتبطلوا اعمالکم"۔ (سورہ محمد،آیت
۳۳)اپنے اعمال کو
باطل یعنی بے کار نہ کرو۔
دوسری
جگہ رب کا فرمان ہے:"ورھبانیۃ ابتدعوا ما کتبنھا علیھم الا ابتغآء رضوان اللہ
فما رعوھا حق رعایتھا"۔ (حدید،آیت۲۷) انہوں نے
رہبانیت کو از خود اللہ کی خوشنودی کے لیے شروع کیا ، ہم نے رہبانیت ان پر فرض نہیں
کی تھی پھر انہوں نے اس کی کما حقہ رعایت نہیں کی۔
ان
دونوں آیتوں سے ثابت ہوا کہ نفل شروع کر کے اس کو باطل کر دینا اس طرح کہ اس کی
قضا بھی نہیں کریں یہ ناجائز ہے اور نفل کی رعایت نہ کرنا ہے۔
اور
حضرت عائشہ والی جو حدیث گذری ہے اس میں صرف اتنا ہے کہ حضور ﷺ نے اس نفلی روزہ کو
توڑ دیا یہ ذکر نہیں ہے کہ حضور ﷺ نے اس کی قضا بھی نہیں کی ، اور اگر فرض کر لیں
کہ حضور ﷺ نے قضا بھی نہیں کی تھی تو یہ آپ کی خصوصیت سے ہوگا ، لہذا قرآن و حدیث
میں تعارض و ٹکراؤ نہیں ہے۔
اب لیجیے
وہ حدیث بھی جس میں نفلی روزہ توڑنے کے بعد اس کی قضا کرنے کی صراحت موجود ہے اور یہ
بھی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ہی مروی ہے۔ امام ترمذی روایت کرتے ہیں:
عن
عائشۃ قالت کنت انا و حفصۃ صائمتین فعرض لنا طعام اشتھیناہ فاکلنا منہ فجاء رسول
اللہ ﷺ فبدرتنی الیہ حفصۃ و کانت انبہ ابیھا فکانت یا رسول اللہ ﷺ انا کنا صائمتین
فعرض لنا طعام اشتھیناہ فاکلنا منہ قال اقضیا یوما آخر مکانہ۔
یعنی
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں اور حضرت حفصہ دونوں نفلی
روزے سے تھیں کہ ہمارے پاس ایک کھانا آیا جسے کھانے کو ہمارا جی چاہا ہم نے اس میں
سے کچھ کھالیا ، رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ یہ واقعہ بیان کرنے میں حضرت حفصہ مجھ پر
سبقت لے گئی آخر وہ اپنے باپ کی بیٹی تھیں کہنے لگیں یا رسول اللہ ﷺ ہم دونوں روزے
سے تھیں ہمارے پاس کھانا آیا اسے کھانے کے لیے ہمارا جی چاہا اور ہم نے اس میں سے
کچھ کھالیا ، آپ نے فرمایا تم دونوں اس روزے کے بدلہ ایک ایک روزہ رکھو۔
اس حدیث پاک سے صراحۃ ثابت ہوا کہ نفلی روزہ توڑدینے کے بعد اس کی قضا واجب ہے ، پھر یہ حدیث قولی ہے اور پہلے جو گذری وہ حدیث فعلی تھی ، اور ظاہر ہے کہ جب حدیث فعلی اور قولی میں بظاہر تعارض معلوم ہو تو حدیث قولی کو ترجیح ملتی ہے، لہذا ہمارے یہاں یہ حکم ہے کہ جب نفلی روزہ کوئی توڑ دے تو اس کی قضا واجب و ضروری ہے، جس پر قرآن و حدیث دونوں کی دلالت ہے۔ واللہ تعالی اعلم
كتبــــــــــــــــــــ محمدعثمان برکاتی مصباحى ـــــــــــــــــــــــــه
خادم دارالافتا
والقضا دارالعلوم فیضان مدینہ، جنکپور


0 تبصرے