میت کے نام سے عقیقہ کر سکتے ہیں یا نہیں
اَلسَلامُ
عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ بعدہ
کیا فرماتے ہیں علمإ کرام اس بارے میں کہ میت کے نام سے عقیقہ کر سکتے ہیں یا نہیں
جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع دیں
مہربانی ہوگی۔نام عبدالقادر رونی سیدپور سیتامڑھی بہار
بسم اللہ
الرحمن الرحیم
الجواب بعون
الملك الوهاب بچہ پیدا ہونے کے شکر میں جانور ذبح کرنے کو عقیقہ کہتے ہیں۔
عقیقہ صرف
زندوں کا ہوتا ہے مردوں کی طرف سے عقیقہ نہیں ہو سکتا۔
فتاوی رضویہ میں ہے:
"مردے
کا عقیقہ نہیں کہ وہ شکر ولادت ہے بخلاف قربانی کہ ایصال ثواب ہے سات دن سے پہلے ہی
مرگیا تو ابھی عقیقہ کا وقت ہی نہیں آیا تھا اور بعد کو مرا تو عقیقہ گیا"۔
دو صفحہ آگے تحریر فرماتے ہیں : "جومر جاۓ کسی عمر کا
ہو اس کا عقیقہ نہیں ہوسکتا"۔( ج ٢٠، ص ٥٩٦، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
فتاویٰ امجدیہ میں ہے:
"
مردہ کا عقیقہ نہیں ہوسکتا کہ عقیقہ دم شکر ہے اوریہ شکرانہ زندہ ہی کے لئے ہو
سکتا ہے"۔ ( ج ٣، باب العقیقہ ص ٣٣٦)
البتہ اگر
مردہ کو ثواب ہی پہنچانا چاہتے ہیں تو ان کے نام سے کسی اور طریقے سے ایصال ثواب
کریں یا نفلی قربانی کریں۔ ان شاء اللہ العزیز سب کا ثواب مردے کو ملے گا.واللہ
تعالٰی اعلم. کتبہ محمد کلام الدین نعمانی مصباحی
۶/صفر المظفر ۱۴۴۴ھ بروز اتوار

0 تبصرے