Header Ads Widget

Responsive Advertisement

سورہ فاتحہ میں والضالّین پر جو بڑی مد ہے۔ اُس کو کھینچتے نہیں تو كىا حكم؟

 

 سورہ فاتحہ میں والضالّین پر جو بڑی مد ہے۔ اُس کو کھینچتے نہیں تو كىا حكم؟

سلام ومسنون کیا فرماتے ہیں علمائے کرام وباشرع دینِ مُفتیانِ عظام۔۔ مسئلہ ذیل کے تحت کہ زید ایک امام ہے۔ جب نماز میں قرآت کرتے ہیں تو سورہ فاتحہ میں والضالّین پر جو بڑی مد ہے۔ اُس کو کھینچتے نہیں اگر کھىنچتے ہیں۔۔تو ایک الف کے برابر۔۔اور ساتھ ساتھ جہاں کہیں بھی سکتہ ۔۔۔ کرتے ہیں ہیں۔۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے۔۔۔ ہمارے یہاں گاؤں کی جامع مسجد میں جو نمازی حضرات ۔۔۔ نماز ادا کرتے ہیں اکثر نمازی حضرات کی دونوں پیروں کی انُگلیاں زمیں سے حالتِ سجدے میں اُٹھی رہتی ہیں۔۔

اگر مذکورہ حضرات سے کہا جائیے کہ (بھائی لوگو) آپ حضرات کی کمی ہے آپ  لوگ  سجدے میں اُنگلیوں کی پیٹ لگائیے اگر نہیں لگاتے ہیں۔۔۔تو شرعی یہ حکم ہے۔۔۔۔ مگر لوگ نہیں مانتے ہیں۔۔۔

نوٹ / ایک بار ہی میں نے بتایا ہے۔۔۔

حاصلِ کلام/ اگر  مزکورہ مسئلہ بار بار بتایا جائیے تو خدشہ لگ رہا ہے لوگوں میں کہیں عُمومِ بلوٰی نا پیدا ہوجائے۔

یاں/ لوگ نماز ہی ادا کرنا ترک کردے

نوٹ/ اس صورت میں لوگوں کو کیسے شرعی مسئلے بتایا جائیے۔۔وجہ ایں کہ علمائے اہلسنت حکیم الامت بھی ہوا کرتے ہیں۔الحمدُللہ کوئی عُمدہ مشورہ سے نوازیں کرم نوازش ہوگی۔۔۔السائل۔محمد اکمل رضا رشیدی ویسٹ بنگال الہند۔۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب (۱) صورت مسئولہ میں نماز ہوجائے گی، اس لیے کہ مد، غنہ، اظہار، اخفا، امالہ بے موقع پڑھا، یا جہاں پڑھنا ہے نہ پڑھا، تو نماز ہو جائے گی۔

البتہ قرأت میں اگر ایسی غلطی ہوئی جس سے معنی بگڑ گئے تو نماز فاسد ہو جائے گی، ورنہ نہیں۔

ایسا ہی بہار شریعت(ج۱، ص۵۵۴، ۵۵۷) میں ہے۔

لحن کے ساتھ قرآن پڑھنا حرام ہے اور اس کا سننا بھی حرام، لہذا ہر ایک کے لیے ضروری ہے کہ قرآن مع قواعد تجوید اچھی طرح پڑھنا سیکھ لیں، تاکہ اپنی اور دوسروں کی بھی نماز مکمل درست ہو۔ (بہار شریعت، ایضا)

(۲) اس مسئلے کا حل گذشتہ سوال کے جواب میں تفصیل سے بیان کر دیا گیا ہے، الحمدللہ آپ تعلیم یافتہ بھی ہیں، بآسانی سمجھا سکتے ہیں۔

آپ نے بطور مشورہ سوال کیا ہے، تو میں چند جملے مشورتا پیش کرتا ہوں، ملاحظہ فرمائیں!!!

ا۔ العوام کالانام کو مد نظر رکھتے ہوئے مسائل شرعیہ سے آگاہ کریں ان شاءاللہ العزیز کبھی نہ کبھی ضرور کامیابی ملے گی۔

ب۔ اس مسئلہ کو جمعہ میں بیان کیا جائے، پھر وقتا فوقتا انفرادی طور پہ ہر ایک کو اس مسئلہ کی مکمل افادیت و نقص بتائیں اور عمل کی پر زور ترغیب کریں، کیوں کہ اجتماعیت سے زیادہ تاثیر انفرادیت میں ہے۔ ان شاءاللہ آپ کی بات مؤثر  ثابت ہوگی۔

ج۔ آج کل جہالت کی کثرت اور علم و عمل کی قلت کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے۔

آپ کا کام ہے اصل مسئلہ بتانا، اس پہ عمل کی ترغیب دلانا، عمل کرنا صاحب معاملہ کا کام ہے۔ جیسا کرے گا ویسا پائے گا۔واللہ تعالٰی اعلم  کتبہ :محمد کلام الدین نعمانی مصباحی امجدی ..دوئم ربیع النور ۱۴۴۴ھ بروز جمعرات

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے