حالت سجدے میں ناک نالگے تو اس صورت میں کیا حکم ہے
السلامُ علیکم
ورحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتُہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل
مسئلے کے بارے میں۔
اگر کسی نمازی
کا حالت سجدے میں ناک نالگے تو اس صورت میں کیا حکم ہے۔ وضاحت فرمائیے۔
دوسرا مسئلہ/
اگر زید باجماعت نماز ادا کررہاہے اگر انکے دونوں پیروں کی اکثر انگلیاں زمین سے
الگ رہجائیے ۔ تو اس صورت میں کیا حکم ہے۔
تیسرا مسئلہ/
کیا عورتوں کو سجدے میں دونوں پیروں کی انگلیوں کی پیٹ لگانا ضروری ہےیا نہیں۔ اس
صورت میں کیاحکم ہے وضاحت فرمائیے۔ سائل محمد اکمل رضا رشیدی میرزادپور/ علاقہ
کانکی ویسٹ بنگال الہند۔
بسم
الله الرحمن الرحىم
الجواب بعون
الملك الوهاب (۱)
سجدے
میں بلا عذر ناک زمین سے نہیں لگی، یا لگی لیکن ہڈی تک نہیں دبی تو نماز مکروہ تحریمی
واجب الاعادہ ہوگئی ۔ كىونكہ
سجدہ میں پیشانی کا زمین پر جمنا فرض ہے، اور ناک اس طرح جمانا کہ جو حصہ ناک کا
نرم ہے اس کے دبنے کے بعد ناک کی ہڈی زمین پر جم جائے ضرورى ہے،لہذا اگر ناک کی
نوک زمین سے چھو گئی اور ہڈی نہ لگی تو نماز واجب الاعادہ ہوئی۔ اىسا ہى بہار
شرىعت (ج1، ص514) میں ہے۔
حدیث شرىف میں ہے: " أمرت
أن أسجد على سبعة أعظم وأشار إلى أنفه".
فتاوی ہندىہ
کتاب الصلاۃ میں ہے: "وإن كان من غير عذر فأن وضع جبهته دون انفه جاز اجماعا
ويكره". اه (ج1،ص70، الفصل الاول من الباب الرابع في صفة الصلوة)
(2) صورت مسئولہ میں اگرکوئی اس طرح
سجدہ کرے کہ دونوں پاؤں زمین سے اٹھے رہیں یا پاؤں کا صرف ظاہری حصہ زمین پر لگا یا،
یا صرف انگلیوں کی نوک لگائى اور ایک بھی
انگلی کا پیٹ زمین پر نہ لگا تو اس طرح نماز نہیں ہوگی اس نماز کو دوبارہ پڑھنا
لازم ہوگا،اسی طرح اگر ایک انگلی کا پیٹ تو زمین پر لگا یا مگردونوں پاؤں کی تین تین
انگلیوں کاپیٹ زمین پر نہ لگا یا تو ترک واجب کی وجہ سے گناہ بھی ہوگا اورنمازواجب الاِعادہ ہوگی۔
كیوں
کہ امام ہو یاغیر امام سجدہ میں دونوں
پاؤں کی دسوں انگلیوں میں سے کسی ایک انگلی کاپیٹ زمین پر لگنا فرض ہے، اور ہر پاؤں کی تین تین انگلیوں کاپیٹ زمین پر لگناواجب ہے، اور دونوں پاؤں کی دسوں انگلیوں کاپیٹ زمین پر لگنا اور ان کا قبلہ رو ہونا
سنت ہے۔
اىسا
ہى بہار شرىعت (ج1، ص513...530) میں ہے۔
فتاوی فیض الرسول میں ہے:
"اگر سجدہ میں دونوں پاؤں زمین سے اٹھے رہے یا صرف انگلیوں کے سرے زمین
سے لگے اور کسی انگلی کاپیٹ بچھا نہیں تو اس صورت میں نماز بالکل نہیں ہوگی، اوراگر ایک دو انگلیوں کے پیٹ زمین سے لگے اور اکثر کے پیٹ نہیں لگے، تو اس صورت میں نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی۔ (ج1، ص251)
درمختار میں ہے :
"وضع اصبع واحدہ منھماشرط......فیه يفترض وضع اصابع القدم و لو واحدة نحو
القبلة و الا لم تجزو الناس عنه غافلون) (ج2،ص157...239...241)
(3) عورت پر سجدے میں انگلیوں کے پیٹ کو زمین پر لگانا فرض نہیں، بلکہ عورت کےلئے بہتر طریقہ یہی ہے کہ سجدے میں اپنی رانوں کو پنڈلیوں کے ساتھ ملا لے اور دونوں پاؤں کو دائیں جانب نکال لے، قبلہ رخ کرنا ضروری نہیں۔ اىسا ہى بہار شرىعت (ج1، ص529,30) میں ہے۔ والله تعالى اعلم بالصواب کتبہ: کلام الدین نعمانی مصباحی... یکم ربیع النور ۱۴۴۴ھ بروز بدھ

.jpg)
0 تبصرے