چالیس دن تک موئے زیر ناف نہیں صاف کیا تو ؟
مسئلہ:کیا
فرماتے ہیں مفتیان دین وملت اس مسئلہ میں کہ اگر کسی نے چالیس دن تک موئے زیر ناف
نہیں صاف کیا تو وہ ناپاک ہوگا یا نہیں اور اس کی نماز میں خلل پیدا ہوگا یا نہیں؟بینواو
توجروا۔مستفتی: مولانا اظهار الدىن
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب:موئے
زیر ناف صاف کرنا سنت ہے،حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حدیث پاک میں اس کے
لئے چالیس دن کا وقت مقرر فرمایا ہے۔اس سے زیادہ دنوں تک اسے چھوڑے رکھنااور صاف
نہ کرنامکروہ تحریمی وگناہ ہے۔لہٰذا اگر کوئی شخص چالیس دنون سے زیادہ تاخیر کرنے
کا عادی ہو تو وہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوگا،اور اگر عادت نہ ہو تو گناہ صغیرہ ضرور
ہوگا۔لیکن اس کی وجہ سے ناپاک نہ ہوگا، کیونکہ یہ ناپاک ہونے کے اسباب میں سے نہیں
ہے۔ہاں اس کی نماز میں خلل ضرور ہوگا یعنی اس کی نماز ناقص ہوگی۔
مسلم شریف میں
ہے:((وقت
لنا فی قص الشارب وتقلیم الاظفار ونتف الابط وحلق العانۃ ان لا نترک اکثر من
اربعین لیلۃ))
(ج:۱ص:۱۲۹،کتاب الطھارۃ،باب
خصال الفطرۃ)
ترجمہ:ہمارے
لئے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مونچھیں کترنے، ناخن کاٹنے، زیر بغل
بال اکھاڑنے اور زیر ناف بال مونڈنے کے لئے ایک وقت مقرر فرمایا کہ ہم میں کوئی
شخص چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے۔
الدرالمختار
میں ہے:((وکرہ
ترکہ وراء الاربعین))
اسی کے تحت
ردالمحتار میں ہے:((ای تحریما لقول المجتبی:ولا عذر فیما وراء الاربعین ویستحق
الوعید))
(ج:۹ص:۵۸۳،کتاب الحظر
والاباحۃ،باب الاستبراء وغیرہ،فصل فی البیع)
فتاوی رضویہ
میں ہے:''چالیس روز سے زیادہ ناخن یا موئے بغل یا موئے زیر ناف رکھنے کی اجازت نہیں
بعد چالیس روز کے گنہگار ہوں گے ایک آدھ بار میں گناہ صغیرہ ہوگا عادت ڈالنے سے کبیرہ
ہو جائے گا فسق ہوگا''۔ (ج:۹،ص:۱۲۸،
کتاب الحظر و الا با حۃ ، نصف آخر)
بہار شریعت میں
ہے:‘‘مکروہ تحریمی: یہ واجب کا مقابل ہے اس کے کرنے سے عبادت ناقص ہو جاتی اور
کرنے والا گنہگار ہوتا ہے۔اگر چہ اس کا گناہ حرام سے کم ہے اور چند بار اس کا
ارتکاب کبیرہ ہے’’۔(ج:۱،ح:۲،ص:۲۸۳،،کتاب
الطھارۃ) واللہ تعالیٰ اعلم۔
کتبہ:محمدکلام الدین نعمانی مصباحی

.jpg)
0 تبصرے