رشتے دار کے نام سے عقیقہ کر سکتا ہے یا نہیں
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
کیا فرماتے ہیں علمإ دین اس بارے میں کہ زید اپنے رشتے دار کے نام سے عقیقہ کر سکتا ہے یا نہیں جواب عنایت فرماے مہربانی ہوگی
عبدالقادر رونی سیدپور سیتامڑھی بہار
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب صورت مسئولہ میں کسی دوسرے کے نام سے عقیقہ کر سکتے ہیں۔
اصل بچہ پیدا ہونے کے شکریہ میں جو جانور ذبح کیا جاتا ہے اس کو عقیقہ کہتے ہیں۔
اور عقیقہ کرنا سنت ہے۔
عقیقہ کے لیے ساتواں دن بہتر ہے، اور ساتویں دن نہ کرسکیں تو جب چاہیں کرسکتے ہیں سنت ادا ہو جائے گی۔ ایسا ہی بہار شریعت (ج۳، ص ۳۵۵، ۳۵۶) میں ہے۔
کسی دوسرے کی طرف سے عقیقہ کرنا، تو عقیقہ کے لیے کوئی شرط نہیں ہے کہ کون کس کی طرف سے کرے۔ البتہ اتنا ہے کہ بچہ چھوٹا ہو تو اس کا عقیقہ اسی کے ذمہ ہے جس کے ذمہ نفقہ ہے یعنی ماں باپ کے ذمہ ہے، اور اگر بالغ ہو گیا ہے تو اپنا عقیقہ خود کرے یا کوئی دوسرا اس کے نام سے عقیقہ کردے سنت ادا ہو جائے گی۔
جیسا کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نواسے حسنین کریمین کا عقیقہ خود کیا تھا۔
حدیث پاک میں ہے:
"ترمذی نے اَمیرالمومنین حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہتے ہیں رسول ﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے حضرت حسن رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی طرف سے عقیقہ میں بکری ذبح کی اور یہ فرمایا کہ’’ اے فاطمہ اس کا سرمونڈا دو اور بال کے وزن کی چاندی صدقہ کرو‘‘ ہم نے بالوں کو وزن کیا تو ایک درہم یا کچھ کم تھے۔ (باب العقیقۃ بشاۃ، الحدیث: ۱۵۲۴ ، ص ۱۷۵)
ابو داود اِبن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما سے راوی کہ رسول ﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے امام حسن و امام حسین رضی ﷲ تعالٰی عنہما کی طرف سے ایک ایک مینڈھے کا عقیقہ کیا اور نسائی کی روایت میں ہے کہ دو دو مینڈھے۔ (کتاب الضحایا،باب العقیقۃ،الحدیث: ۲۸۴۱ ،ج ۳ ،ص ۱۴۳) واللہ تعالی اعلم
کتبہ محمد کلام الدین نعمانی مصباحی امجدی
۱۴/ صفرالمظفر ۱۴۴۴ھ

.jpg)
0 تبصرے