Header Ads Widget

Responsive Advertisement

رضاعی ماں کے کیا حقوق



 رضاعی ماں کے کیا حقوق

کیا فرماتیں ہیں علماء اکرام اس مسئلے میں کہ ہندا زید کی رضاعی ماں ہے اور زید اب جوان ہو گیا ہے اب ہندا زید سے کچھ حق مانگے تو اس میں شریعت کا کیا حکم ہے مع حوالہ تحریر فرمادیں مہربانی ہو گی۔ 

محمد شاکر السیا بوجھ بھیڑ ی بریلی

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں زید پر صرف رضاعی ماں کی تعظیم واکرام لازم ہے، نکاح کے باب میں یہ آپس میں محرم ہیں،  لیکن رضاعی ماں حقوق واجبہ (نان و نفقہ اور وراثت وغیرہ ) میں حقیقی ماں کی طرح نہیں ہے۔ اور زید کا بھی رضاعی ماں باپ پر کوئی حق (میراث وغیرہ) نہیں۔

 ليكن اس کی مالی مدد کرنا اخلاقی تقاضہ ہے۔ جیسا کہ احادیث کریمہ میں ہے۔

لہذا زید کے لیے مناسب یہی ہے کہ اپنی رضاعی ماں کو جس چیز کی ضرورت ہو اس کے ذریعہ سے اس کی مدد کر دے، تاکہ اس کی دل جوئی بھی ہو جائے، اور اس کی تعظیم بھی ہو جائے۔

حدیث شریف میں ہے:

"وَعَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَاجٍ الأَسلَمِيِّ عنْ أَبيِهِ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسولَ اللّٰهِ! مَا يُذهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ؟  فَقَالَ: "غُرَّةُعَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ"۔

 روایت ہے حضرت حجاج ابن حجاج اسلمی سے وہ اپنے باپ سےراوی انہوں نے عرض کیا یارسول ﷲ کون چیز مجھ کو شیر خوارگی کا حق ادا کرا سکتی ہے فرمایا غلام یا لونڈی کی پیشانی۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح، باب المحرمات،  حدیث نمبر ۳۱۷۴، المکتبۃ المدینہ) 

اسی میں ہے:

"وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ الْغَنَوِيِّ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ، فَبَسَطَ النَّبِيُّ  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِدَاءَهُ حَتَّى قَعَدَتْ عَلَيْهِ، فَلَمَّا ذَهَبَتْ قِيلَ: هَذِهِ أَرْضَعَتِ النَّبِيَّ  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ"۔ 

روایت ہے حضرت ابو طفیل غنوی سے فرماتے ہیں میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ایک بی بی صاحبہ آئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر بچھادی حتی کہ وہ اس پر بیٹھ گئیں، توپھر جب وہ چلی گئیں تو کہا گیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا ہے۔ (حدیث نمبر ۳۱۷۵، ایضا)

المبسوط للسرخسي میں ہے:

"ويجوز شهادة الرجل لوالده من الرضاعة ووالدته؛ لأن الرضاع تأثيره في الحرمة خاصة، وفيما وراء ذلك كل واحد منهما من صاحبه كالأجنبي. (ألا ترى) أنه لا يتعلق به استحقاق الإرث واستحقاق النفقة حالة اليسار والعسرة"۔(كتاب الشهادات، باب من لا تجوز شهادته، ج16، ص125) واللہ تعالی اعلم۔

کتبہ محمد کلام الدین نعمانی مصباحی امجدی 

۱۴/ صفرالمظفر ۱۴۴۴ھ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے