Header Ads Widget

Responsive Advertisement

کسی کافر کو نمستے، نمسکار یا پرنام کہنا کیسا ہے؟


 کسی کافر کو نمستے، نمسکار یا پرنام کہنا کیسا ہے؟

کسی کافر کو نمستے، نمسکار یا پرنام کہنا کیسا ہے؟ کوئى مسلمان کسی کافر کو پرنام یا نمسکار کیا تو اس مسلمان پر کیا حکم ہے نیز یہ بھی بتادیجيے  کہ پرنام اور نمسکار لغوی اوراصطلاحی معنی کیا ہے ؟ سائل: عبد القادر فیضی رونی سید پور سیتامڑھی بہار

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب کسی مسلمان کا کافر کو پرنام یا نمسکار کرنا حرام و گناہ ہے، اس لیے کہ یہ غیر مسلموں کا شعار ہے۔

اگر کوئی کسی کو کہے "السلام علیکم" تو ہر شخص جان جاتا ہے کہ یہ مسلم ہے اور اگر کوئی نمستے، نمسکار کہے تو سب کو معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ ہندو ہے۔لہذا اس طرح کے الفاظ استعمال نہ کریں جس سے کسی قوم سے مشابہت ہوتی ہے۔

حدیث شریف میں ہے:

"لیس منا من تشبہ لغیرنا لا تشبھوا بالیھود ولا بالنصاری فان تسلیم الیھود اشارۃ بالید والنصاری اشارۃ بالکف

یعنی ہم میں سے وہ نہیں جو غیروں کا شعار اختیار کرے۔ یہود و نصاری کا شعار نہ اختیار کرو، یہود کا سلام ہاتھ سے اشارہ اور نصاری کا ہتھیلی سے اشارہ کرنا ہے۔

لہذا مسلمانوں کو چاہئیے کہ یہود و نصاری اور ہندؤوں کے طریقوں کو نہ اپنائیں بلکہ اسلامی شعار و طریقہ اختیار کریں۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل "افشوا السلام" کو خوب سے خوب تر عام کریں۔

یہاں سب سے پہلے یہ جان لیں کہ “نمستے اور نمسکار” یہ دونوں سنسکرت زبان کے مشہور الفاظ ہیں. اور یہ بظاہر ہندو مذہب میں “سلام وپرنام” کے طور پر انکی زبان پر جاری ہیں۔

لغوی اعتبار سے یہ لفظ “نمستے”یہ دو لفظوں سے  ملکر بناہواہے۔ یعنی یہ اپنے آپ میں مرکب ہے. ایک ہے” نَمَہ” جس کا مطلب ہوتا ہے “جھک گیا”اور دوسرا ہے”اَستے”جس کا مطلب ہے”فخرسے بھراہواسر”۔

یعنی اس کا پورا مطلب ہوا” فخر سے بھرا ہوا سر آپ کے سامنے جھک گیا”۔

کچھ ہندو احباب کہتے ہیں کہ لفظ” نمستے “میں” نمہ” ہے باقی “س” زائد ہے.تو”نمہ”بمعنی “جھکنا”اور تے” تم “کے معنی میں ہے. یعنی میں تمہارے لئے جھک گیا۔ بعض لوگ” تے”کو غائب کی ضمیر مانتے ہیں اس صورت میں یہ”پرنام “ہندؤں کے بھگوان کی طرف لوٹتا ہے یعنی بھگوان کو پرنام ۔ جبکہ بعض لوگ دونوں ہاتھ جوڑکرآداب بجالانے کو نمستےکہتے ہیں۔

اب آیئے نمسکار کی طرف یہ لفظ” نمسکار”بھی نمستے کے ہم معنی ہے.اس کے معانی "بھارت کوش ہندی” لغت میں لکھا ہے: “احترام سے جھک کر کیا گیا آداب” گویا دونوں ہم معنی ہیں۔

لہذا ان کلمات کو اپنانے یا برتنے کی از روے شرع گنجائش نہیں۔اس لیے اس سے بچتے ہوئے انہیں آداب کہہ دینا چاہیے؛کیونکہ یہ مذہبی جملہ نہیں ہے. واللہ تعالیٰ اعلم۔کتبہ: محمد کلام الدین نعمانی مصباحی امجدی

28/ محرم الحرام 1443ھ


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے